شتمِ رسول کا مسئلہ——فقہاے اُمت کی نظر میں

عام طور پر یہ بتایا جاتا ہے کہ مسلمان ریاست میں کوئی شخص جو مسلمان شہری کی حیثیت سے زندگی بسر کرتا ہے؛وہ اگر گستاخیٔ رسول کا علانیہ کا ارتکاب کرے تو تمام فقہاے اُمت کے مابین اِس پر اتفاق ہے کہ ایسے شخص کے لیے خاص اِس جرم کی شرعی سزا (حَدّ) قتل ہے ۔ علمِ اسلامی کی رو سے کیا یہ بات درست ہے؟

پڑھیے۔۔۔

قانون رسالت اور جزا و سزا

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے رسولوں کے منکرین پر اللہ تعالی آسمانی عذاب نازل کرتے تھے اور مسلمانوں کو نجات دیتے تھے۔ نبی علیہ السلام کے دور میں یہ سزا صحابہ کے ہاتھوں دی گئی۔ اگر یہ درست ہے تو پھر کچھ صحابہ بدر ، احد اور دوسری جنگوں میں کیوں شہید ہوئے؟اللہ تعالی نے یہاں اپنا قانون کیوں بدلا کہ مومنین کو نجات اور کامیابی ملے گی۔

یہ بھی بتائیے کہ جنت اس دنیا کے ثواب کو بھی کہا جا سکتا ہے؟ اگر اللہ تعالی رسالت کے قانون کے تحت دنیا کے معاملہ میں بھی براہ راست دخل انداز ہوتے ہیں تو ضروری ہے کہ صحابہ کو اجر بھی اسی دنیا میں ملے جیسے کہ منکرین کو سزا ملتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انہیں دنیا میں جنت مل جائے۔

پڑھیے۔۔۔