علیحدگی کی صورت میں بچے کی کفالت

میری اہلیہ میری طرف سے ملازمت کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے مجھے چھوڑ کر اپنے والدین کے پاس چلی گئی ہے۔ وہ اپنے ساتھ میری انتہائی بیمار بچی کو بھی لے گئی ہے، حالانکہ میرے سسرال میں نہ صحیح طرح سے اس بچی کا علاج ممکن ہے اور نہ وہ لوگ اس کے علاج کا خرچ برداشت ہی کر سکتے ہیں۔ اب وہ مجھے اپنی بچی سے ملنے بھی نہیں دے رہے، بلکہ مزید یہ کہ میری اہلیہ نے عدالت سے یہ درخواست کی ہے کہ بچی کو اسی کے پاس رہنے دیا جائے۔ جبکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ اگر میری بیوی میرے پاس نہیں بھی آنا چاہتی تو میری بیٹی میرے پاس ہی رہے تاکہ میں اس کا صحیح علاج کرا سکوں۔ چنانچہ میں آپ سے درج ذیل سوالات پوچھنا چاہتا ہوں:

١۔ کیا میں اپنی انتہائی بیمار بچی کو جس کی جان خطرے میں ہے ، حاصل کرنے کا مطالبہ شرعاً کر سکتا ہوں؟

٢۔ کیا شریعت ان حالات میں جبکہ بچی کی ماں محض ملازمت کی خواہش کے لیے اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے گھر کو چھوڑ کر چلی گئی ہے، بچی کے باپ کو کچھ ایسے خاص حقوق دیتی ہے جن کی بنا پر وہ اس صورت حال کو سنبھال سکے؟

٣۔ بچی کس کے پاس رہے گی، اس کیس کا فیصلہ شرعی قانون کے تحت کیا جائے گا یا دیوانی قانون کے تحت؟

٤۔ اس سارے قضیے میں آپ کی اپنی کیا راے ہے؟

پڑھیے۔۔۔

بیوی کے نان ونفقہ کی ذمہ داری

اگر بیوی نشوز اختیار کرتی ہے اور خاوند کی جان کی دشمن بن جاتی ہے تو کیا اس صورت میں بھی بیوی کے نان ونفقہ کی ذمہ داری مرد پر ہو گی؟

پڑھیے۔۔۔

شوہر اور والدین

میری شادی کو ۵ ماہ ہوئے ہیں۔ اور اللہ کے فضل سے میں اپنی اس نئی شادی شدہ زندگی میں بہت خوش ہوں۔ لیکن مجھے ایک مسئلہ درپیش ہے جس کے بارے میں میں آپ سے رہنمائی چاہتی ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ میرے اور میرے شوہر کے خاندان میں پہلے سے ہی تعلقات اچھے نہیں تھے شادی کے بعد مزید خراب ہو گئے ہیں۔ اب شوہر کا کہنا ہے کہ یا تم اپنے والدین کو چھوڑ دو یا مجھے اور دوسری طرف میرے والدین کا کہنا ہے کہ اگر میں نے اپنے شوہر کی طرف داری کی تو میں کبھی ان کو ملنے نہیں جا سکتی۔ اب میرے لیے میرے والدین بھی محترم ہیں اور میرے شوہر بھی۔ برائے مہربانی آپ اس معاملے میں میری رہنمائی فرمائیے کہ مجھے ان حالات میں کیا کرنا چاہیے۔ اس معاملے میں قرآن اور اسلام کا کیا نقطہ نظر ہے؟

پڑھیے۔۔۔