بینکوں کے شیئرز

کیا اسٹاک ایکسچینج میں بینکوں کے شیئرز خریدنا حرام ہے، جبکہ ان کی قیمتیں اوپر اور نیچے ہوتی رہتی ہیں اور ان پر جو منافع دیا جاتا ہے، وہ بھی کم اور زیادہ ہوتا رہتا ہے؟ اس صورت میں کیا یہ نفع و نقصان جیسی چیز نہیں بن جاتی؟

پڑھیے۔۔۔

ذاتی کاروبار کرنے کے لیے رشوت دینا و سودی قرض لینا ، ماہانہ سیونگ سرٹیفیکیٹ اور شیئرز

میں بینک میں نوکری کرتا ہوں ، لیکن اپنی فیملی کے بہتر مستقبل کے لیے نوکری کے ساتھ ساتھ یا نوکری کو خیر باد کہہ کر اپنا کاروبار کرنا چاہتا ہوں ۔لیکن موجودہ حالات میں اس میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہوں ۔کیونکہ اس وقت جنرل اسٹور کے چھوٹے سے کاروبار سے لے کر ڈیلر شپ اور ٹھیکیداری کے بڑ ے بڑ ے کاروبار تک میں حکومتی یا نیم حکومتی اداروں سے واسطہ پڑ تا ہے اور ان سے لائسینس حاصل کرنے ، اسے برقرار رکھنے اور دوسرے کئی طرح کے معاملات کرنے کے سلسلے میں ان کے اسٹاف کو رشوت دینی پڑ تی ہے ، کیونکہ اس کے بغیر آپ کے جائز کام بھی نہیں ہوتے۔ اور اسی طرح آج کے چیلنجنگ اور مقابلہ بھرے ماحول میں کاروبار چلانے کے لیے بینکوں سے سودی قرض لینا بھی ناگزیر ہو چکا ہے ۔میں اس سلسلے میں جتنے بھی کاروباری لوگوں سے ملا ہوں ، وہ سب ان مشکلات کا سامنا کر رہے اور مجبوراًحکومتی افسران اور اداروں کو رشوت دیکر اور بینکوں سے سود پر قرض لے کر اپناکاروبار چلا رہے ہیں۔ کیا اس طرح کے حالات میں اپنا گھر چلانے ، ایک مناسب معیارِ زندگی حاصل کرنے اور اپنے بچوں کی اعلی تعلیم اور بہتر مستقبل کے لیے دل کی ناپسندیدگی کے ساتھ ان برائیوں میں ملوث ہوتے ہوئے کاروبار کیا جا سکتا ہے؟

اسی طرح میں حکومت اور پرائیوٹ کنوینشنل بینکوں کے جاری کردہ ماہانہ مقررہ آمدنی کے سرٹیفیکیٹس کے بارے میں بھی جاننا چاہتا ہوں؟

پڑھیے۔۔۔