سورۂ ص کی آیہ کریمہ٤٤

حیلہ شرعی جس کو فقہا نے سورہ ص کی آیہ کریمہ٤٤ سے استنباط کیا ہے ، اس پر کچھ روشنی ڈالیے۔ مزید برآں اصلاحی صاحب اس آیت کے ذیل میں اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں: دین میں اسی چیز کا اہتمام ہے۔ اگر کسی حکم کی تعمیل اس کی اصل صورت میں متعذر ہو تو اس کی تعمیل شبہی صورت میں ضرور کی جائے تاکہ اس کی یاد قائم رہے۔ اس اصل پر تفریع کرتے ہوئے کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ امامت، اذان، تعزیت اور تسلیت، تراویح اور قرآن خوانی، چونکہ اصل شکل میں تقریبا متعذر ہے۔ پس باید آنکہ شبہی صورت میں بجالایا جائے جو آجکل مروج ہے۔ اس صورت میں بدعت اضافی چہ معنی دارد؟

پڑھیے۔۔۔