صحابۂ کرام کی صحیح تصویر

صحابہ کی جو تصویر ہمیں قرآن میں دکھائی دیتی ہے، وہ بہت خوب ہے اور بہت عمدہ ہے، لیکن انھی حضرات کی جو تصویر ہمیں تاریخ کے آئینے میں نظر آتی ہے، وہ بہت افسوس ناک اور بہت تکلیف دہ ہے، اس تصویر میں یہ لوگ بعض موقعوں پر عام انسانی صفات سے بھی عاری دکھائی دیتے ہیں۔اس کی کیا وجہ ہے ؟

پڑھیے۔۔۔

اویس قرنی

میرا سوال نیچے دی گئی حدیث اور اویس قرنی سے متعلق ہے۔ برائے مہربانی اس کی وضاحت کر دیجیے۔

صحيح مسلم - كتاب فضائل الصحابة - إن رجلا يأتيكم من اليمن يقال له أويس

4613 - ص 1969 - 2542 حدثنا إسحق بن إبراهيم الحنظلي ومحمد بن المثنى ومحمد بن بشار قال إسحق أخبرنا وقال الآخران حدثنا واللفظ لابن المثنى حدثنا معاذ بن هشام حدثني أبي عن قتادة عن زرارة بن أوفى عن أسير بن جابر قال كان عمر بن الخطاب إذا أتى عليه أمداد أهل اليمن سألهم أفيكم أويس بن عامر حتى أتى على أويس فقال أنت أويس بن عامر قال نعم قال من مراد ثم من قرن قال نعم قال فكان بك برص فبرأت منه إلا موضع درهم قال نعم قال لك والدة قال نعم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يأتي عليكم أويس بن عامر مع أمداد أهل اليمن من مراد ثم من قرن كان به برص فبرأ منه إلا موضع درهم له والدة هو بها بر لو أقسم على الله لأبره فإن استطعت أن يستغفر لك فافعل فاستغفر لي فاستغفر له فقال له عمر أين تريد قال الكوفة قال ألا أكتب لك إلى عاملها قال أكون في غبراء الناس أحب إلي قال فلما كان من العام المقبل حج رجل من أشرافهم فوافق عمر فسأله عن أويس قال تركته رث البيت قليل المتاع قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يأتي عليكم أويس بن عامر مع أمداد أهل اليمن من مراد ثم من قرن كان به برص فبرأ منه إلا موضع درهم له والدة هو بها بر لو أقسم على الله لأبره فإن استطعت أن يستغفر لك فافعل فأتى أويسا فقال استغفر لي قال أنت أحدث عهدا بسفر صالح فاستغفر لي قال استغفر لي قال أنت أحدث عهدا بسفر صالح فاستغفر لي قال لقيت عمر قال نعم فاستغفر له ففطن له الناس فانطلق على وجهه قال أسير وكسوته بردة فكان كلما رآه إنسان قال من أين لأويس هذه البردة

پڑھیے۔۔۔

صحابہ كا مقام

غامدی صاحب فرماتے ہيں كہ دين كی كامل وضاحت صرف رسول صلی الله عليہ و سلم اور ان كے صحابہ كرام ہی كر سكتے ہيں۔ ان كے بعد كوئی يہ كام نہيں كر سكتا۔ نتيجة كوئی مسلمان كسی كو بھی كافر قرار نہيں دے سكتا۔ ميرا سوال يہ ہے كہ اگر صحابہ كا مقام يہی ہےتو جو لوگ ان كو گالياں ديتے اور برا بھلا كہتے ہيں ان كے بارے ميں آپ كی كيا رائے ہے؟

پڑھیے۔۔۔

صحابہ کرام کی جنگیں

میرا سوال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دفاعی جنگ کے سوا کوئی جنگ نہیں لڑی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کس کی اجازت سے جنگیں لڑیں؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔

پڑھیے۔۔۔

شہادت حضرت عثمانؓ

یہ سوال جناب ریحان احمد یوسفی کی خدمت میں ہے جو کہ المورد ویب سائٹ پر اردو سوالات کی فہرست میں پوسٹ کیے گئے ایک سوال سے متعلق ہے جس کا جواب جناب ریحان احمد یوسفی صاحب نے دیا ہے۔ ان کا دیا گیا جواب نا قابل سمجھ ہے۔ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ لوگ بغیر کسی ٹھوس وجہ کے حضرت عثمانؓ کے خلاف کیوں جاتے؟ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس بارے میں کوئی شک نہیں کے حضرت عثمانؓ کے دور خلافت میں بھی بہت سے مسائل موجود تھے۔ اور ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیےجيسا کہ جناب یوسفی صاحب نے كہا فسادی گروہ کی قیادت حضرت ابو بکرؓ کا بیٹا اور حضرت عائشہؓ کا بھائی کر رہا تھا۔ اگر فسادی گروپ کو طلحہ، زیبر، اور علی رضی اللہ عنہم کو مارنا تھا، اور پھر بعد میں طلحہ اور زبیر کا آرمی میں شامل ہو جانا اور حضرت علیؓ پر حملہ کرنا کیا ثابت کرتا ہے؟ کیا یہ یہ ثابت کرتا ہے کہ حضرت علیؓ غلط راستے پر تھے اس لیے طلحہ اور زبیر نے ان سے قصاص لینے کے لیے حضرت علیؓ کے خلاف فوج بندی کی۔ علیؓ پر وہاں کیوں شک کیوں کیا گیا جب کہ سب جانتے ہیں کہ علیؓ ، حضرت محمدؐ سے کتنے قریب ہیں اور ان کا کردار کسی بھی خامی سے پاک ہے؟کیوں حضرت معاویہؓ اور ان کے ساتھیوں نے حضرت علیؓ کو حضرت عثمانؓ کے قتل کا ذمہ دار تصور کر لیا بجائے اس کے کہ ان کا ساتھ دیا جائے؟ کیوں پیغمبرؐ کا خاندان ہی آخر تک قتل کی سزا بھگتتا رہا؟ علیؓ، حسنؓ، حسینؓ اور ان کا پورا کا پورا خاندان انہی (فسادی گروہ) لوگوں کے ہاتھوںکیوں مارا گیا؟

کربلا جو کہ ایک بہت پرانا واقعہ ہے اور کوئی بھی نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے بنیادی وجہ کیا ہے. برائے مہربانی مجھے اس سوال کا جواب تفصیل کے ساتھ دیا جائے مناسب تاریخی حوالوں اور ثبوت کے ساتھ۔ اور مہربانی فرما کر مجھے اس جنگ کے پیچھے چھپی ہوئی حقیقت کے بارے میں بتائیے اور اس بارے میں بھی رہنمائی فرمائیے کہ یزید کی اسلامی تاریخ میں کیا پہچان ہے؟ یہ ایک نازک مسئلہ ہے اور ہمیں چاہیے کہ ہم اس کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کریں۔

پڑھیے۔۔۔

اصحاب رسول اور ان کی سیرت

میرا سوال یہ ہے کہ جب کوئی تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ پریشان ہو جاتا ہے خاص طور پر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اور ان کی سیرت کے معاملے میں۔ اور یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون صحیح تھا کون غلط۔ جیسا کہ جنگ جمل میں حضرت عائشہ ؓ صحیح تھیں یا حضرت علیؓ؟ میرے نقطہ نظر سے کوئی بھی صحیح نہیں تھا۔ کیوں کہ حضرت عائشہؓ نے حضرت علیؓ کی مخالفت میں حکومت کی رٹ کو چیلینج کیا اور حضرت علیؓ کے پاس دونوں گروہوں کو قابو کرنے کے لیے کوئی چارہ نہیں تھا۔ جس کا نتیجہ تباہی کی صورت میں نکلا۔ اسی طرح کربلا کی جنگ، ہر مسلمان اسے مذہب کے لیے لڑی گئی جنگ تصور کرتا ہے جب کہ اگر تاریخ کا صحیح طرح سے مطالعہ کیا جائے تو اس جنگ کی وجہ سیاسی کھیل ہے جس میں دونوں گروہوں نے اپنے اپنے طور پر مناسب برتری لے رکھی تھی۔ برائے مہربانی رہنمائی کیجیے کہ ان اصحاب کو کس نظر سے دیکھا جائے اور ان کے صحیح غلط ہونے کا فیصلہ کیسے کیا جائے۔ کیوں کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان میں سے ایک گروہ صحیح تھا اور دوسرا غلط۔ وضاحت کیجیے۔

پڑھیے۔۔۔

صحابہ كرام كا جہاد

ميرا سؤال اتمام حجت، صحابہ كرام كے جہاد اور بزور تلوار اسلام پھيلانے كے بارے ميں ہے۔ آپ كا موقف يہ ہے كہ اتمام حجت كے بعد مشركين كو اسلام يا موت كی آپشن دينا صرف نبی عليہ السلام كے لئے تھی اور ان كے بعد يہ كسی كے اختيار ميں نہيں۔ اگر يہ صحيح ہے تو پھر نبی عليہ السلام كے انتقال كے بعد حضرت خالد بن وليد اور حضرت سعد بن وقاص كی جنگوں كی كيا نوعيت ہے؟ كيا ان كا ايران كو فتح كرنا جائز تھا؟ جب وہ نبی عليہ السلام كی عدم موجودگی ميں يہ نہيں جان سكتے تھے كہ آيا ان كے مخاطبين پر اتمام حجت ہوا يا نہيں تو كيا ان كا جہاد جو اصل ميں اسلام قبول نہ كرنے كی سزا ہی تھا اسلامی تعليمات كی روشنی ميں ممكن تھا؟

پڑھیے۔۔۔

صحابۂ کرام کا رول

مجھے صحابۂ کرام کے حوالے سے کچھ Confusion لاحق ہو گیا ہے ، جس کے سلسلے میں آپ سے وضاحت درکار ہے۔ ہوا یوں کہ ایک پروگرام میں جب ڈاکٹر ذا کر نائک سے یزید اور جنگِ کربلا کے بارے میں سوال کیا گیا، تو اُنہوں نے یزید کے لیے رضی اللہ عنہ کے الفاظ استعمال کیے اور جنگِ کربلا کو ایک سیاسی لڑ ائی قرار دیا۔مجھے یہ سن کر بہت جھٹکا لگا کیونکہ ہم بچپن سے یہ سنتے آ رہے ہیں کہ یزید ایک ملعون اور ظالم شخص تھا اور کربلا کا واقعہ حق و باطل کی ایک جنگ تھی۔مسلم کمیونٹی میں بھی اس بات پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور ڈاکٹر ذا کر نائک کے بارے میں کہا جانے لگا کہ وہ اگرچہ ’تقابلِ ادیان‘ کے موضوع کے ایک اچھے طالبعلم ہیں لیکن وہ اسلام کے ایک اچھے اور بڑ ے ا سکالر نہیں ہیں۔ میں نے خود بھی یہی محسوس کیا، لیکن پھر مجھے خیال ہوا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص ’تقابلِ ادیان‘ کے موضوع پر تو سند کا درجہ رکھتا ہو، لیکن اپنے مذہب سے اچھی طرح واقف نہ ہو ، اس طرح میرا کنفیوژن کافی بڑ ھ گیا اور میں نے ذاتی طور پر اس ٹاپک پر تحقیقی مطالعہ کا ذہن بنایا۔ اس سلسلے میں میں نے اس موضوع پر مختلف نقطۂ نظر سے لکھی گئی کافی کتابیں پڑ ھ ڈالیں۔ سب سے پہلے کسی کے بتانے پر میں نے مولانا مودودی کی کتاب ’خلافت و ملوکیت‘ کا مطالعہ کیا ، جس میں یہ تأثر دیا گیا تھا کہ حضرت امیر معاویہ اور یزید ایک ہی سطح و مزاج کے لوگ تھے اور دونوں ہی کی وجہ سے اسلام اور اہلِ اسلام کو نقصانات پہنچے ، جبکہ حضرت علی اور امام حسین نے اسلام کا دفاع کیا۔ا س کے بعد کسی کے بتانے پر میں نے محمود احمد عباسی کی کتاب ’خلافتِ معاویہ و یزید‘ دیکھی ، جس کے پڑھنے کے بعد تأثر یہ بنا کہ حضرت معاویہ نے تو اصل میں اسلام کا دفاع کیا اور یزید بھی ایک ۔۔۔۔۔۔۔ شخص تھا۔جبکہ حضرت علی اور امام حسین کا مؤقف صحیح نہیں تھا۔میری پریشانی اور کنفیوژن دگنی ہوگئی۔ پہلے مجھے امیر معاویہ اور یزید کے بارے میں شکوک لاحق ہوئے تھے تو اب میں حضرت علی اور امام حسین کے بارے میں شبہات میں مبتلا ہو گیا تھا۔ اسی دوران ایک نیا مسئلہ یہ سامنے آیا کہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے حضرت علی کے حوالے سے الکوحل کی ممانعت پر مشتمل ایک روایت بیان کی تو اُس پر بھی مسلمان کمیونٹی اُن کے خلاف بھڑ ک اٹھی۔اس موضوع پر میں نے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے لیکچرز بھی سنے ، پریشانی مزید بڑ ھ گئی کیونکہ انہوں نے تو حضرت علی کو ایک ما فوق الفطرت ہستی کی حیثیت سے پیش کیا اور ا س کے دلائل بیان کیے تھے۔ ان سب باتوں نے مل کر مجھے تو بہت ہی کنفیوژ کر دیا ہے اور میں صحابۂ کرام کے حوالے سے عجیب قسم کی پریشانی اور بے اطمینانی میں مبتلا ہو گیا ہوں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط؟ کس کی اقتدا کی جائے اور کس کی نہیں؟ کس کے مؤقف کو درست سمجھا جائے اور کس کے مؤقف کو نا درست؟ لہٰذا براہِ مہربانی اس سلسلے میں میری رہنمائی کر دیجیے؟

پڑھیے۔۔۔