صوفیا کے محیر العقول واقعات

قدرت اللہ شہاب صاحب کی کتاب ''شہاب نامہ'' کے آخری باب میں بعض ایسی باتیں ہیں جو سمجھ میں نہیں آتیں۔ مثال کے طور پر ان کا اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنا کہ اللہ تعالیٰ حضرت بی بی فاطمہ کی روح طیبہ کو اجازت مرحمت فرمائیں کہ وہ میری ایک درخواست اپنے والد گرامی کے حضور میں پیش کر کے منظور کرادیں اور پھر دعا کا قبول ہو جانا۔ اسی طرح ان کو ایک خط موصول ہونا اور پھر اسی خط کا مختلف جگہوں پر پایا جانا۔ یہ اور اس قسم کی اور بھی باتیں جو وہاں درج ہیں،سب سمجھ سے بالاتر ہیں۔ ازراہ کرم اس کی وضاحت کر دیں؟

پڑھیے۔۔۔