عذاب قبر كا ثبوت

کیا قرآن مجید میں عذاب قبر کا کوئی ثبوت موجود ہے؟

پڑھیے۔۔۔

برزخ اور عالم برزخ

يہ برزخ کا تصور کيا ہے جس ميں مرنے والوں کو قيامت تک رہنا ہو گا ، جب کہ قرآن مجيد يہ بتاتا ہے کہ مرنے والے زمين ہي ميں جائيں گے اور قيامت کے دن زمين ہي سے نکليں گے ، جيسا کہ قرآن مجيد کي درج ذيل آيت سے ظاہر ہے۔ ارشاد باري ہے

منها خلقناکم وفيها نعيدکم ومنها نخرجکم تارة اخري (طه20: 55)

اسي سے ہم نے تم کو پيدا کيا ہے اور اسي ميں تم کو لوٹائيں گے، اور اسي سے تم کو دوبارہ نکاليں گے۔

اور برزخ سے عالم برزخ کيسے بن گيا اور عالم برزخ سے قبر کيسے بن گئي؟ اور يہ کہ برزخ ميں انسان زندہ ہو گا مگر يہ زندگي جسم کے بغير ہو گي ، اس بات کي دليل قرآن ميں کہاں ہے؟

پڑھیے۔۔۔

قبر میں سوال و جواب سے متعلق حدیث کی توضیح

مشکوۃ کي درج ذيل حديث کے بارے ميں وضاحت درکار ہے

اس کے بعد قبر ميں دو فرشتے قبر ميں مومن کے پاس آتے ہيں۔ آ کر اسے اٹھاتے ہيں اور اس سے سوال کرتے ہيں: تيرا رب کون ہے؟ وہ جواب ديتا ہے: ميرا رب اللہ ہے۔ پھر پوچھتے ہيں: تمھارا دين کيا ہے؟ وہ جواب ديتا ہے: ميرا دين اسلام ہے۔ پھر پوچھتے ہيں: يہ کون صاحب ہيں جو تمھارے اندر بھيجے گئے؟ وہ کہتا ہے يہ اللہ کے رسول ہيں۔ پھر اس سے پوچھتے ہيں تيرا عمل کيا ہے؟ وہ کہتا ہے: ميں نے اللہ کي کتاب پڑھي ، اس پر ايمان لايا اور دل سے اس کي تصديق کي۔ اس کے بعد ايک منادي آسمان سے پکارتا ہے کہ ميرے بندے نے سچ کہا۔ اس کے ليے جنت کے بچھونے بچھا دو ، اس کو جنت کے کپڑے پہنا دو اور اس کے ليے جنت کے دروازے کھول دو۔ چنانچہ جنت کا دروازہ اس کے ليے کھول ديا جاتا ہے جس کے ذريعے سے جنت کي خوشبو اور آرام اسے نصيب ہوتا رہتا ہے۔ اس کي قبر اتني کشادہ کر دي جاتي ہے کہ جہاں تک اس کي نظر پہنچے۔ اس کے بعد ايک نہايت خوبصورت چہرے والا بہترين لباس والا اور پاکيزہ خوشبو والا شخص اس کے پاس آ کر کہتا کہ خوشيوں کي بشارت سن لے۔ تيرا وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کيا جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تم کون ہو کہ تمھارا چہرا حقيقت ميں چہرا کہنے کے لائق ہے اور اس لائق ہے کہ اچھي خبر لاۓ۔ وہ کہتا ہے کہ ميں تيرا نيک عمل ہوں۔ اس کے بعد وہ خوشي ميں کہتا ہے کہ اے رب قيامت قائم فرما۔ اے رب قيامت قائم فرما۔ اے رب قيامت قائم فرما تاکہ ميں اپنے اہل وعيال اور مال ميں پہنچ جاؤں۔

پڑھیے۔۔۔

عذاب قبر

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر انسانوں کو جس عذاب سے ڈرایا ہے وہ 'عذاب النار' یعنی 'جہنم کا عذاب' ہے، جو کہ ایک اٹل اور مصمم حقیقت ہے۔مگر آج کل کی تبلیغ پر اگر غور کیا جائے تو ہر فرقہ'عذاب قبر' سے ڈراتا ہوا نظر آتا ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حساب کاایک دن مقرر کردیا اور واضح طور پر قرآن میں فرمادیا ہے کہ اُس دن تمام اِنسان دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیے جائیں گے اور تب ہی اُن کی سزا وجزا کا فیصلہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو پھر'عذاب قبر' کیا ہے ؟ اِس کی کیا حقیقت ہے ؟ اگر اِنسان کو مرنے کے بعد قبر میں عذاب دیا جائے گا، تو اِس کا کوئی حوالہ کیا قرآن میں کہیں دیا گیا ہے؟

پڑھیے۔۔۔