عروج و زوال کا قانون

موجودہ دور میں جب یہ بات کی جاتی ہے کہ قوم کی تعمیر ہونی چاہیے، ہمیں اپنے اندر صبر پیدا کرنا چاہیے۔ اس وقت ہم اپنی قوتیں، بہترین نوجوان اور وسائل جو غیر ضروری معاملات کی جد وجہد میں ضائع کر رہے ہیں ، ان کو اپنی تعمیر پر صرف کریں تو جواب میں کہا جاتا ہے کہ مغرب تو اصل میں یہی چاہتا ہے کہ ایسا ہی کریں اور یہ کشاکش ختم ہو جائے تاکہ میدان ان کے لیے چھوڑ دیا جائے۔اس بارے میں آپ کیا فرمائیں گے؟

پڑھیے۔۔۔

قرآن مجید کی تعلیم اور اچھا معاشرہ

اگر قرآن مجید کا علم عام ہو جائے تو کیا اس سے اخلاقی، سیاسی اور ملکی معاملات حل ہو جائیں گے اور ایک اچھا معاشرہ قائم ہو جائے گا؟

پڑھیے۔۔۔

مسلمانوں کی حالت زار کی وجہ

مسلمانوں کی حالت زار کی وجہ کیا ہے اور اس کا حل کیا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

زوالِ امت کا سبب

اس امت کے زوال کا حقیقی سبب کیا ہے؟ موجودہ حالات میں ایک عام آدمی کو حکومت اور اپنے معاشرے میں کیسار ویہ اختیار کرنا چاہیے، جبکہ حالات دن بدن خراب ہو رہے ہیں؟

پڑھیے۔۔۔

امت مسلمہ ایمان اور اسلام کے باوجود زوال پذیر کیوں؟

دور جدید میں ہم دیکھتے ہیں کہ غیرمسلم اقوام مادی اعتبار سے اپنے عروج پر ہیں ۔ اس کے برعکس امت مسلمہ زوال کا شکار ہے۔ ایک دور تھا جب ہم نے سپر پاور کی حیثیت سے دنیا کے بڑ ے حصے پر حکومت کی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم زوال کا شکار ہو گئے اور غیر مسلم مغربی اور ایشیائی اقوام ترقی کر گئیں اور اب وہ سپر پاور کی حیثیت سے ہم پر حکومت کر رہی ہیں؟

پڑھیے۔۔۔