عورت کا نماز کا لباس

میری بیوی اس خیال کے تحت کہ نماز کے لیے بازو کہنی تک ڈھانپنا کافی ہے، نماز پڑھتی رہی ہے۔ اسے کسی نے بتایا ہے کہ عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ نماز میں کلائیاں بھی ڈھانپے۔ مجھے ان دونوں آرا کا استدلال معلوم نہیں ہے۔ ازراہِ کرم رہنمائی فرمائیے؟

پڑھیے۔۔۔

عورت اور مرد كا سترڈھانپنا

جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ مرد کا ستر ناف سے گھٹنوں تک ہے اور یہ نماز کی شرائط میں سے بھی ہے، اس کی کیا حقیقت ہے اور کن دلائل کی بنیاد پر ایسا کہا جاتا ہے ؟ کیا یہ اللہ اور رسول نے متعین کیا ہے یا فقہا کی اپنی رائے ہے ؟ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟

عورت کے ستر کے بارے میں ایک حدیث پیش کی جاتی ہے جو حضرت اسما بنت ابو بکر سے مروی ہے - میرے علم کے مطابق کم و بیش سب ہی علما شاید اسی حدیث کی رو سے چہرہ ، ہاتھ اور پاؤں کے سوا تمام جسم کو ستر قرار دیتے ہیں - کیا علمائے امّت میں سے کسی اور نے بھی اس سے مختلف رائے کا اظہار کیا ہے ؟ کیا اس حدیث میں کوئی ضعف ہے یا اس کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے ؟

جیسا کہ میں سمجھا ہوں ، آپ لوگوں کا کہنا ہے کہ شریعت نے لباس کےحدود و خدوخال متعین نہیں کیے بلکہ شرم و حیا اور ایک مہذب لباس کی تلقین کی ہے ، جب کہ زیب و زینت نہ کی ہوئی ہو- مجھ پر اس کا اطلاقی پہلو کچھ واضح نہیں ہے - گویا ہر ایک کو اپنے لیے مہذب لباس کا فیصلہ خود کرنا ہے ، تو اس فیصلے میں معاشرے کے معروف معیار کا کتنا دخل ہے یا یہ محض اپنے فطری احساس پر مبنی ہے - شرمگاہوں کو اچھی طرح ڈھانپنے کے بعد اگر معاشرے کے معروف کی پیروی کی جا تو کیا دین کا منشا پورا ہو جاتا ہے ؟ شرمگاہوں کی حفاظت تو ایک فطری امر بھی ہے ، لیکن اس سے اوپر اوپر ہر معاشرے میں مہذب لباس کا تصور مختلف ہوتا ہے - ایک مغربی معاشرے میں بازو اور پنڈلی ( اور شاید کندھے بھی ) کھلے ہونے کے باوجود لباس مہذب ہی کہلاتا ہے اور ذرا بھی عجیب اور معیوب نہیں سمجھا جاتا - تو ایک مغربی عورت کو کیسے کہا جا کہ مہذب لباس وہی ہے جو پاکستان میں مہذب کہلاتا ہے - مزید یہ کہ دین میں لباس کے حدود کو متعین نہ کرنے میں کیا حکمت ہے ؟ مثلا کیا یہی کہ مختلف معاشروں میں ان کے حالات کے اعتبار سے رعایت کی جا اور لوگوں کے لیے تنگی نہ پیدا ہو ؟ معلوم نہیں میں اپنا سوال واضح کر سکا ہوں یا نہیں-

براہ کرم میری کم علمی پر در گزر کریں اور تفصیلی وضاحت فرمایں - جزاک اللہ

پڑھیے۔۔۔