عید الاضحی

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ عید الاضحی کا چاند نظر آنے کے بعد اپنے جسم کے بال اور ناخن نہیں کاٹتے۔ اُن کا کہنا ہے کہ جن کے گھر قربانی ہو وہ لوگ اس کے ذبح ہونے تک نہ اپنے بال کٹوا سکتے ہیں اور نہ ناخن کاٹ سکتے ہیں جب کہ یہی عمل احرام کی حالت میں بھی لازم ہوتا ہے۔ ایک قاری صاحب نے مجھے بتایا کہ یہ مستحب عمل ہے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے کہ یہ مستحب عمل ہے؟

پڑھیے۔۔۔

عیدالاضحی پر جانوروں کی قربانی

سورۂ حج میں قربانی کو حج کا ایک اہم رکن بتایا گیا ہے لیکن اس کے علاوہ کسی دوسرے موقع کی قربانی کا پورے قرآن میں کہیں ذکر نہیں ملتا۔ اسی کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی زندگی میں ایک ہی مرتبہ قربانی کی جب آپ نے حج ادا فرمایا اور صحابۂ کرام نے بھی ایسا ہی کیا، لیکن آج ساری دنیا کے مسلمان ہر سال عید الاضحی کے موقع پر جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ جس چیز کا قرآن و حدیث اور رسول اللہ کی زندگی میں کہیں ذکر نہیں ملتا وہ آج ہمارے مذہب کا حصہ بن گئی ہے اور ہم ہر سال پورے مذہبی جوش و خروش سے اس کا اہتمام کرتے ہیں؟ اگر ہم سماجی اور معاشی پہلو سے اس بات کاجائزہ لیں تو ہر سال اس پر جو خطیر رقم خرچ کی جاتی ہے ، اسے ہم اگر ا سکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیر پر خرچ کریں تو دنیا بھر میں مسلمان معاشروں کی حالت بالکل ہی تبدیل ہوجائے۔ اس طرح تو مسلمان ممالک مل کر World Bank کی طرح کا اپنا ایک مالیاتی ادارہ وجود میں لا سکتے ہیں جو انہیں غیروں کی معاشی غلامی سے نجات دے سکتا ہے ، لیکن ہم یہ سب کام کرنے کے بجائے ہر سال یہ خطیر رقم باربی کیو کے اہتمام پر لگاتے ہیں۔ میں نے پچھلے کئی سال سے قربانی نہیں کی ، بلکہ میں یہ رقم ایدھی ٹرسٹ یا کسی ہسپتال کو خیرات کی نیت سے دے دیتا ہوں تاکہ وہ دکھی انسانیت کی خدمت میں استعمال ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ان خیالات پر کچھ روشنی ڈالیں؟

پڑھیے۔۔۔