لفظ کے معنی طے کرنے کا صحیح طریقہ

میرے خیال میں غلام احمد پرویز کی یہ بات درست ہے کہ :

''اعجاز قرآن لفظوں کے انتخاب میں چھپا ہوا ہے، یعنی یہ کہ خدا نے اپنی بات کہنے کے لیے فلاں لفظ ہی کیوں منتخب کیا ہے اور اُس لفظ کا خاص پس منظر کیا ہے، چنانچہ جب اس پس منظر کے حوالے سے بات واضح کی جاتی ہے تو تفسیر کے اس طریقے سے ہمارے اوپر حکمت قرآن کے دروازے کھلتے ہیں۔''

پرویز صاحب کے اس اتنے اچھے نقطہ نظر پر غامدی صاحب کی درج ذیل تنقید میری سمجھ میں نہیں آتی کہ:

''کسی عربی لفظ کے مادے کی تحقیق کا تعلق علم لسانیات سے ہے، یہ ایک دلچسپ موضوع تو ہے، لیکن قرآن فہمی سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔''

جبکہ میرے خیال میں پرویز صاحب نے اپنے اسی طریقے سے سورہ اخلاص کی جو تفسیر کی ہے، وہ طبیعت کو بہت متاثر کرتی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ پرویز صاحب کے طریق تفسیر میں آخر کیا غلطی ہے اور اس طریقے سے دوسرے علما قرآن کی تفسیر کیوں نہیں کرتے اور وہ لوگوں کو اس طریقے سے کیوں نہیں سمجھاتے؟

پڑھیے۔۔۔

کیا سنت کے ساتھ گناہ اور ثواب وابستہ ہے؟

جسے عرف عام میں سنت کہتے ہیں غامدی صاحب اسے معاملات اور عادت کہتے ہیں۔ تو کیا عرف عام میں جسے سنت کہا جاتا ہے اس کے ساتھ گناہ اور ثواب وابستہ ہے۔ پانی پینے کے حوالے سے جو سات سنتیں معروف ان کی کیا حقیقت ہے۔

پڑھیے۔۔۔

نبوت کا دعویٰ

میرا سوال یہ ہے کہ کیا خاتم النبیّین حضرت محمد صلی اللہ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا شریعت میں جرم نہیں ہے؟ اگر ہے تو پھر غامدی صاحب کا رویہ احمدی فرقے والوں کے لیے نرم کیوں ہے؟ اور اگر جرم نہیں ہے تو پھر حضرت ابوبکرؓ نے مسیلمہ کذاب کے خلاف احتجاج کیوں کیا؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے۔

پڑھیے۔۔۔

قرآن کے تراجم اور آیات متشابہات

جناب عرض یہ ہے کہ میں اسلام کے معاملہ تلاش حق میں سرگرداں ہوں ۔ میں نے بہت سے علماء کو سنا جن میں سے مجھے غلام احمد پرویز صاحب مجھے بہت پسند آئے۔ پھر مجھے جاوید احمد غامدی صاحب کی باتوں میں کشش نظر آئی۔ اب میں پرویز صاحب کی آراء کو درست نہیں سمجھتا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ قرآن کا کوئی بہتر ترجمہ مجھے مل جائے جو میں بآسانی سمجھ سکوں۔ لیکن اس معاملہ میں بھی میں علماء کے مابین اختلاف پاتا ہوں۔ اور میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ متشابہات آیات کے بارے میں قرآن کیا کہتاہے؟ آپ اپنے نظریہ کے مطابق وضاحت کریں۔

پڑھیے۔۔۔

معاصر علما کی آراء

ایک طویل عرصہ سے میں بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث فرقہ کے علما کا مطالعہ کرتا رہا ہوں مگر ان میں سے کوئی بھی مجھے مطمئن نہیں کر سکا۔ حق کی تلاش میں میں مولانا وحید الدین خان اور جاوید احمد غامدی تک پہنچا۔ میں ان دونوں حضرات کے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش میں ہوں۔میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ان دونوں حضرات کے نقطہ ہائے نظر میں بنیادی فرق کیا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

سنت کے بارے میں جاوید احمد غامدی کا نقطہ نظر

میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا سابقہ علماء کا سنت کے بارے میں نقطہء نظر یہی تھا جو جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے میزان میں بیان کیا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

البیان

مولانا مودودی نے جو قرآن کی تفسیر کی ہے وہ عام پڑھے لکھے لوگوں کے لئے ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی کی تفسیر عالم لوگوں کے لئے لکھی گئی ہے۔ لیکن جاوید احمد غامدی صاحب جو تفسیر لکھ رہے ہیں وہ کن لوگوں کے لئے ہے؟ اور یہ تفسیر جاوید احمد غامدی صاحب کیوں لکھ رہے ہیں جبکہ آج کئی تفاسیر قرآن موجود ہیں؟

پڑھیے۔۔۔

اہل بیت کے بارے میں رویہ

میں آپ کے لیکچرز دلچسپی سے سنتا ہوں لیکن کبھی آپ نے اہل بیت یا رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ نہ ہی آپ کربلا کے متعلق کوئی بات کرتے ہیں۔ جاننا چاہتا ہوں کہ اس کی کیا وجہ ہے؟

پڑھیے۔۔۔

نماز کے شروع میں دعائے ابراہیمی

میں نے اپنے ایک سوال میں جناب امین احسن اصلاحی صاحب کی کتاب تزکیہ نفس کے مطابق نماز کے شروع میں دعائے ابراہیمی پڑھنے کا ذکر کیا تھا۔ ریحان صاحب نے کہا ہے کہ یہ تکبیر کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے۔ جب کہ تزکیہ نفس کا مطالعہ کی جائے تو اس کے مطابق یہ دعا تکبیر سے پڑھنی چاہیے۔ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔ مزید یہ کہ غامدی صاحب کی میزان کا مطالعہ کرتے ہوئے میں نے نوٹ کیا کہ غامدی صاحب کے مطابق بھی اس دعا کو تکبیر کے بعد پڑھنا چاہیے۔ برائے مہربانی اس مسئلے کو واضح کریں اور رہنمائی فرمائیں۔

پڑھیے۔۔۔

کون سی تفسير بہتر ہے

میں جاننا چاہتی ہوں کہ غامدی صاحب کی نظر میں کون سی تفسیر بہتر ہے۔ میں نے مولانا مودودی کی تفہیم القرآن کا مطالعہ کیا ہے مگر اس کے کچھ حصوں سے مجھے اتفاق نہیں ہو سکا۔ میں عربی پڑھ اور سمجھ سکتی ہوں اور جب کوئی ترجمہ پڑھتی ہوں تو احتیاط سے کام لیتی ہوں۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ اکثر مترجم اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ قرآن، جسے وہ ترجمہ کر رہے ہیں، شاعری سے قریب ہے نثر نہیں۔وہ لفظی ترجمہ میں اصل مفہوم کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔

میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ قرآن مجید میں بعض تاریخی واقعات بار بار اور چند دیگر امور وضاحت سے بیان کئے گئے ہیں اور کچھ اہم باتیں بہت ہی اجمال سے بیان کی گئی ہیں۔ اس وجہ سے بہت اہم مسائل پر اختلاف پیدا ہوا ہے۔

میرا تیسرا سوال یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالی، آدم، فرشتوں اور ابلیس کے مکالمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کو ابلیس کی سرکشی سے حیرت ہوئی۔ یہ بات مجھے طرز کلام سے سمجھ آتی ہے۔ایسا کیوں ہے؟ جبکہ اللہ تو سب جانتا ہے۔

میرا چوتھا سوال قرآن کے سمجھنے سے متعلق ہے۔ اگرچہ قرآن عربی میں ہے اور ہمیں چاہیے کہ ہم عربی سیکھیں تاکہ براہ راست کلام اللہ کو سمجھ سکیں اور مترجمین کے مرعون منت نہ رہیں۔ مگر کیا عرب دنیا کے لوگ قرآن کو صحیح سمجھ لیتے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ نہیں۔ وہ تو بہت اختلاف میں پڑے اور بسا اوقات غلط تاویل کر جاتے ہیں۔ تو صحیح تاویل تک پہنچنے کا کیا طریقہ ہے؟ صحیح تاویل تو ہدایت کی طرف لے جانے والی ہے۔

میں تو ہمیشہ قرآن پر ایمان رکھتی اور عمل کرتی ہوں۔ حدیث کا مطالعہ بھی کرتی ہوں مگر اس کے صحت سند کے حوالے سے سوالات کی وجہ سے بہت احتیاط کرتی ہوں۔ عجیب بات یہ ہے کہ مذہبی علما سے ہم جو جانتے اور سیکھتے ہیں وہ قرآن کی تعلیمات سے مطابق نہیں ہوتا۔ یہی حال سعودی علما کے فتاوی کا ہے۔غامدی صاحب سے مجھے ہمیشہ آیات کے صحیح معنی جاننے میں مدد ملی ہے۔ کیا وہ کوئی تفسیر یا ترجمہ کر رہے ہیں۔ اگر نہیں تو وہ کس کی تفسیر یا ترجمہ اختیار کرتے ہیں؟

پڑھیے۔۔۔

قرآن سمجھنے سے متعلق سوالات

ميں جاننا چاہتی ہوں كہ غامدی صاحب كی نظر ميں كون سی تفسير بہتر ہے۔ ميں نے مولانا مودودی كی تفہيم القرآن كا مطالعہ كيا ہے مگر اس كے كچھ حصوں سے مجھے اتفاق نہيں ہو سكا۔ ميں عربی پڑھ اور سمجھ سكتی ہوں اور جب كوئی ترجمہ پڑھتی ہوں تو احتياط سے كام ليتی ہوں۔ مجھے احساس ہوتا ہے كہ اكثر مترجم اس بات كا خيال نہيں ركھتے كہ قرآن، جسے وہ ترجمہ كر رہے ہيں، شاعری سے قريب ہے نثر نہيں۔ وہ لفظی ترجمہ ميں اصل مفہوم كو نظر انداز كر سكتے ہيں۔

ميرا دوسرا سوال يہ ہے كہ ايسا كيوں ہے كہ قرآن مجيد ميں بعض تاريخی واقعات بار بار اور چند ديگر امور وضاحت سے بيان كئے گئے ہيں اور كچھ اہم باتيں بہت ہی اجمال سے بيان كی گئی ہيں۔ اس وجہ سے بہت اہم مسائل پر اختلاف پيدا ہوا ہے۔

ميرا تيسرا سوال يہ ہے كہ قرآن مجيد ميں اللہ تعالی، آدم، فرشتوں اور ابليس كے مكالمہ سے معلوم ہوتا ہے كہ الله تعالی كو ابليس كی سركشی سے حيرت ہوئی۔ يہ بات مجھے طرز كلام سے سمجھ آتی ہے۔ايسا كيوں ہے؟ جبكہ الله تو سب جانتا ہے۔

ميرا چھوتھا سوال قرآن كے سمجھنے سے متعلق ہے۔ اگرچہ قرآن عربی ميں ہے اور ہميں چاہيے كہ ہم عربی سيكھيں تاكہ براہ راست كلام الله كو سمجھ سكيں اور مترجمين كے مرعون منت نہ رہيں۔ مگر كيا عرب دنيا كے لوگ قرآن كو صحيح سمجھ ليتے ہيں؟ ميرا خيال ہے كہ نہيں۔ وہ تو بہت اختلاف ميں پڑے اور بسا اوقات غلط تاويل كر جاتے ہيں۔ تو صحيح تاويل تك پہنچنے كا كيا طريقہ ہے؟ صحيح تاويل تو ہدايت كی طرف لے جانے والی ہے۔

ميں تو ہميشہ قرآن پر ايمان ركھتی اور عمل كرتی ہوں۔ حديث كا مطالعہ بھی كرتی ہوں مگر اس كے صحت سند كے حوالے سے سولات كی وجہ سے بہت احتياط كرتی ہوں۔ عجيب بات يہ ہے كہ مذہبی علماء سے ہم جو جانتے اور سيكھتے ہيں وہ قرآن كی تعليمات سے مطابق نہيں ہوتا۔ يہی حال سعودی علماءكے فتاوی كا ہے۔ غامدی صاحب سے مجھے ہميشہ آيات كے صحيح معنی جاننے ميں مدد ملی ہے۔ كيا وہ كوئی تفسير يا ترجمہ كر رہے ہيں۔ اگر نہيں تو وہ كس كی تفسير يا ترجمہ اختيار كرتے ہيں؟

پڑھیے۔۔۔

جاويد غامدی صاحب كے كام پر ايك تنقيد

ميں غامدی صاحب كا بہت مداح ہوں اور ان كے نظريات اورحكمت كی بہت قدر كرتا ہوں۔ ميں دوسروں كے نظريات اور خيالات كو بھی سنتا اور پركھتا رہتا ہوں۔ حال ہی ميں غامدی صاحب پر كی جانے والی ايك تنقيد نظرسے گزری ۔ ناقد نے غامدی صاحب كے كام اور رينڈ كارپوريشن (RAND)كے ايجنڈہ كی موافقت كا ذكر كيا۔ اس كے بعد ميں رينڈ كی ويب سائٹ پر گيا۔ سائٹ پر دئے گئے مواد كو پڑھ كر معلوم ہوا كہ وہاں كئی باتيں غامدی صاحب كے نظريات سے ملتی جلتی تھيں۔ مثلا جمہوريت اور جمہوری اقدار، مرد اور عورت كی مساوات و برابری، جہاد اور نظرياتی سطح پر اس كا مقابلہ وغيرہ۔

ميں اس بارے ميں تحقيق كے بغير كسی چيز پر يقين نہيں كرنا چاہتا ۔ غامدی صاحب كے بارے ميں جو كچھ كہا گيا ہے اس پر ان كا موقف جاننا ضروری ہے۔ ان كے اثبات يا انكار كے بغير كوئی رائے بنانا صحيح نہ ہو گا۔ البتہ اس تنقيد نے غامدی صاحب كے موقف كو قدرے كمزور كر ديا ہے۔ اس كی وجہ يہ ہے كہ ايك موازنہ كرنے والے قاری كو نظر آتا ہے كہ ان كے نظريات روشن خيالی كے پروگرام يا امريكہ كے ايجنڈا كی كی پيداوار ہيں۔

اگرچہ ميں جانتا ہوں كہ غامدی صاحب اسلام كے مختلف موضوعات پر ستر كی دہائی سے كام كر رہے ہيں مگر رينڈ كارپوريشن اور كے ايجنڈا اور غامدی صاحب كے كام ميں پائی جانے والی مواثلت كی كيا توجيہ كی جائے؟ اس كا ساتھ اگر اس بات كو بھی شامل كيا جائے كہ غامدی صاحب ٹی وی پر مشرف كے روشن خيالی كے دور ميں ہی نماياں ہوئے ہيں تو بات مذيد مشكل ہو جاتی ہے۔ براہ كرم وضاحت فرما ديں۔

پڑھیے۔۔۔

احادیث کی اہمیت

ٹی وی پروگرامز میں جاوید احمد غامدی صاحب کی گفتگو سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ احادیث کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ کیا یہ حقیقت ہے؟

پڑھیے۔۔۔

اہل علم کا باہمی اختلاف اور ہمارا رویہ

آپ کے مدرسۂ فکر (School of Thought) کے بارے میں مجھے کچھ شکوک اور شبہات پیش آ رہے ہیں ، کیونکہ آپ لوگ اُن بہت سی چیزوں کا انکار کرتے یا اُنہیں غیر دینی قرار دیتے ہیں جو صدیوں سے چلی آ رہی ہیں۔ ٹی وی پر آنے والے پروگرامز میں آپ کے حلقے کے ا سکالرز کو سننے کے بعد جب میں دوسری اسلامی کتابوں کا مطالعہ کرتا ہوں تو وہ مجھے مشکوک لگتی ہیں کیونکہ آپ لوگ بہت سی مستند اور قدیم باتوں سے اختلاف و انکار کرتے ہیں۔ مجھے اس سلسلے میں وضاحت مطلوب ہے؟

پڑھیے۔۔۔

اللہ کے بعض نامناسب نام

میں نے ایک ٹی وی پروگرام میں جاوید احمد صاحب کی یہ بات سنی کہ اللہ تعالیٰ کے جو مشہور سو نام ہیں ان میں سے بعض نامناسب اور غلط ہیں۔ ذرا اس کی وضاحت کر دیجیے۔

پڑھیے۔۔۔

غامدی صاحب کی بے جا مخالفت اور فہمِ دین کا درست رویہ

میں جاننا چاہتا ہوں کہ ہمارے نوجوان خصوصاً اعلی تعلیم یافتہ لوگ اپنے سے مختلف نقطۂ نظر سننے کے روادار کیوں نہیں ہوتے ، اور اختلاف کو کیوں بغض و عناد اور متشدد قسم کی مخالفت کا سبب بنا لیتے ہیں؟ لوگ جاوید احمد غامدی صاحب کے اتنا مخالف کیوں ہیں ؟

پڑھیے۔۔۔