اسلام میں لونڈی و غلام کی حیثیت

اسلام میں ایک آدمی کو کتنی لونڈیاں رکھنے کی اجازت ہے؟ کیا وہ ان کے اخراجات کا بھی ذمہ دار ہو گا اور کیا وہ ان سے جنسی تعلق بھی رکھ سکتا ہے؟ اسی طرح ایک عورت کتنے غلام رکھ سکتی ہے اور کیا وہ بھی ان سے جنسی تعلق رکھ سکتی ہے؟

پڑھیے۔۔۔

لونڈیوں کا نظام

لونڈیوں اور کنیزوں کا نظام کب تک رہا؟ جس طرح شراب کو واضح طور پر حرام قرار دے دیا گیا ، لونڈیوں کے نظام کو کیوں ختم نہ کیا گیا؟ اگر لونڈی کا نظام صرف سوسال پہلے ختم ہوا ہے تو آخر آج ایک لونڈی کیوں نہیں رکھی جا سکتی؟

پڑھیے۔۔۔

آيت ” وما ملکت يمينک مما افاء اللہ عليک” ميں “ما ملکت يمينک” کا مصداق

" وما ملکت يمينک مما افاء اللہ عليک" (الاحزاب33:50)۔ آيت ميں آزاد عورتوں کے آپ کے ملک ميں آنے کا ذکر ہے يا پھر پہلے سے غلام عورتوں کے آپ کي ملکيت ميں آنے کا بيان ہے؟

پڑھیے۔۔۔

غلامی کا خاتمہ کیوں نہیں ہو سکا؟

لونڈیوں کے خاتمے کی فوری یا بتدریج کوئی حد کیوں مقرر نہیں کی گئی۔ کوئی برائی اتنی دیر تک برداشت نہیں کی جا سکتی کہ تیرا چودہ سوسال جاری رہے۔

پڑھیے۔۔۔

غلامی كا خاتمہ نہ ہونے کے اسباب

اگر اسلام نے جيسا كہ آپ لوگ كہتے ہيں غلامی ختم كرنے كا حكم دے ديا تھا تو پھر عالم اسلام ميں غلامی كيوں ختم نہ ہو سكی؟

پڑھیے۔۔۔

اسیران جنگ کو غلام بنانے کا جواز

میں ایک سوال عرض کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے ایک دن غامدی صاحب کی زبان سے سن کر حیرانگی ہوئی کہ "بعد میں قرآن نے مسلمانوں کو منع کر دیا تھا کہ وہ کسی کو جنگی قیدی بنائیں" اگر اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو تمام مسلم حکومتوں نے سرینڈر کرنے والوں کو قیدی بنانے والا نظام جاری رکھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ اچھے مسلمان نہیں تھے تو یہ کام صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی کیا تھا۔ انہوں نے جہاں سے بھی فتح حاصل کی وہاں سے غلام اور لونڈیاں بنائی گئیں۔ اگرچہ انہیں بعد میں آزاد بھی کر دیا گیا۔ لیکن انہوں نے غلام بنائے تو سہی۔ برائے مہربانی آپ اپنے نقطہ نظر سے وضاحت فرمائیں۔

پڑھیے۔۔۔