ترجمہ قرآن

میں نے بعض لوگوں سے یہ سنا ہے کہ قرآن کا پہلا ترجمہ فارسی میں ہوا تھا اور پھر اسی فارسی ترجمے سے باقی تمام ترجموں میں رہنمائی لی گئی، جس کی وجہ سے ایرانیوں کے خیالات اور ان کے عقائد قرآن کے اُن ترجموں میں شامل ہو گئے ہیں، چنانچہ یہ ترجمے قابل اعتبار نہیں ہیں، خصوصاًجبکہ ہم لوگ عربی زبان سے بھی ناواقف ہیں۔ کیا یہ بات آپ کے خیال میں درست ہے؟

پڑھیے۔۔۔