• TAGS:
  • {tag}
  • {/exp:tag:tags}

فاقتلوا انفسكم سے مراد

سورہ بقرہ میں بنی اسرائیل کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ 

'فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَکُمْ'

 (اپنے نفسوں کو قتل کرو)

ا س حکم کا کیا مطلب ہے؟

١۔ کیا اس سے خود کشی مراد ہے؟

٢۔ ایک دوسرے کو قتل کرنا مراد ہے؟

٣۔ نفس امارہ کو قتل کرنا، یعنی مجاہدہ نفس کرنا مراد ہے؟

حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس حکم کے بعد اسی سورہ کی اگلی آیات میں بنی اسرائیل پر یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ

 'ثُمَّ اَنْتُمْ ہٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَکُمْ وَتُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْکُمْ' 
(پھر یہ تمھی لوگ ہو جو اپنوں کو قتل کرتے ہو اور اپنے ہی ایک گروہ کو ان کی بستیوں سے نکالتے ہو)، 

اس تضاد کی کیا وضاحت ہے؟

پڑھیے۔۔۔