فرقہ واریت کیوں

اسلام ایک جانب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ قرآن وسنت بالکل محفوظ ہیں، لیکن دوسری طرف ہمارے چالیس بیالیس فرقے ہیں۔اور ہر فرقہ خود کو حق پر اور دوسرے فرقے کو گمراہ سمجھتا ہے۔یہ اختلاف کیوں ہے؟

پڑھیے۔۔۔

امت كے 73 فرفے

مجھے ایک حدیث کی حقیقت جاننی ہے۔جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے كہ حضور صلی الله عليہ و سلم نے فرمایا : میری امّت کے 72 یا 73 فرقے يا گروہ ہونگے جن میں سے صرف ایک گروہ جنت میں جاۓ گا۔ یہاں گروہ سے کیا مرد ہے؟ وضاحت فرمائيے۔

شکریہ

پڑھیے۔۔۔

صحیح مسالک

دین کے اعتبار سے کون کون سے مسالک صحیح ہیں؟

پڑھیے۔۔۔

امت کا تہتر فرقوں میں تقسیم ہونا اور نظم اجتماعی کی پیروی

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ

 یہود 71 فرقوں میں تقسیم ہوئے، عیسائی 72 فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے اور میری امت تہتر(73) فرقوں میں تقسیم ہو گی، ان میں سے ایک کے سوا سب کے سب فرقے جہنمی ہوں گے اور وہ ناجی فرقہ ،وہ ہو گا جو میرے اور میرے صحابہ کی راہ پر ہو گا۔

 اس حدیث کا مطلب کیا ہے۔


آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ

 تم جماعت المسلمین اور ان کے امام کے ساتھ جڑ کر رہو،

 اس کا کیا مطلب ہے؟کیونکہ آج کل جتنے فرقے بھی موجود ہیں ان میں سے ہر ایک اپنے آپ کو صحیح قرار دیتا ہے، لہٰذا یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آدمی کس کا ساتھ دے اور کس کا نہ دے؟

پڑھیے۔۔۔

مختلف فرقوں سے متعلق

چند مسائل میں رہنمائی درکار ہے۔

١۔ فقہا ایسے بہت سے فرقوں کو مسلمان ہی شمار کرتے ہیں جن کے عقائد تو قطعیات اسلام کے خلاف ہوتے ہیں مگر پھر بھی تاویل کی بنا پر وہ تکفیر کی تلوار سے بچ جاتے ہیں ۔ (واضح رہے یہاں قطعیات سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا ثبوت قطعی ہو)۔ یہاں تک کہ امام ابو حنیفہ نے جہمیوں کے پیچھے نماز پڑھ لینے کی اجازت دی ہے۔ جبکہ قادیانی یوں کہتے ہیں کہ آیت قرآنی 'ولکن رسول الله وخاتم النبيين' میں خاتم النبیین، خاتم المرسلین کو مستلزم نہیں اور اسی طرح لا نبی بعدی بھی لا رسول بعدی کو مستلزم نہیں ، مگر فقہاے کرام ان پر کفر کا وار ضرور کرتے ہیں ۔ اب واضح یہ ہونا چاہیے کہ تاویل کہاں کہاں کام کرتی ہے اور کہاں کہاں نہیں ۔ کیا معتزلی، مشبہہ وغیرہ قطعیات کے منکر نہیں تھے؟ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے خوارج کے خلاف جو جنگ کی تو اس کا سبب خارجیوں کے عقائد تھے یا یہ کہ انھوں نے مسلمانوں کے خلاف خروج کیا تو اس کے دفاع میں حضرت علی نے انھیں مارا؟

٢۔ احادیث میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر روانہ فرماتے تو جس بستی میں اذان کی آواز سنتے، وہاں شب خون نہ مارتے اور اگر اذان کی آواز سنائی نہ دیتی تو آپ کے حکم کے مطابق لشکر شب خون مارتا اور لوٹ مار کرتا۔ مجھے اپنی ناقص فہم کے مطابق اس کی توجیہ سمجھ میں نہیں آ رہی کہ اگر انھوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا تو کیا اس کی وجہ سے ان کے ساتھ یہ معاملہ کیا گیا؟ میں نعوذ باللہ حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کو ظلم نہیں سمجھ رہا، مگر مجھے اس کی عقلی توجیہ سمجھ میں نہیں آ رہی۔ آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

پڑھیے۔۔۔