فطری ہدایت

انسان کو جب اس دنیا میں بھیجا گیا تو کیا وہ اپنے ساتھ بھی کچھ ہدایت لے کر آیا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

فطرت کے مسخ ہونے سے مراد

فطرت سے کیا مراد ہے؟کیا انسان کی فطرت ایک خالی سلیٹ نہیں ہے؟ جس پر کچھ بھی لکھا جا سکتا ہے؟ اور کیا ایسا نہیں ہے کہ آج کل انسانوں کی اکثریت کی فطرت مسخ ہو چکی ہے؟ ان سوالات کی روشنی میں یہ بتائیں کہ غامدی صاحب کی درج ذیل عبارت کا کیا مطلب ہے؟

''...اِس میں شبہ نہیں کہ اُس کی یہ فطرت کبھی کبھی مسخ بھی ہو جاتی ہے ،لیکن دنیا میں انسانوں کی عادات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اُن کی ایک بڑی تعداد اِس معاملے میں بالعموم غلطی نہیں کرتی۔ چنانچہ خدا کی شریعت نے بھی اِن جانوروں کی حلت و حرمت کو اپنا موضوع نہیں بنایا ،بلکہ صرف یہ بتا کر کہ تمام طیبات حلال اور تمام خبائث حرام ہیں،انسان کو اُس کی فطرت ہی کی رہنمائی پر چھوڑ دیا ہے ۔'' (میزان36)

پڑھیے۔۔۔

فطرت کی طرف سے امتیازی سلوک

کسی شخص کا اپنی پیدائیش پر اختیار نھیں ھوتا،پھر کوئی کسی ارب پتی کے ھاں پیدا ھوتا ھے اور کوئی کسی فقیر کے ھاں، یہ فطرت کی طرف سے امتیازی سلوک نھیں ھے کہ کوئی منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ھوا اور کوئی فاقوں کے جھرمٹ میں.

اگر آپ کچھ وضاحت کر دیں تو مشکور ھوں گا کہ کسی عقلی منطق کی تلاش میں ھوں اور آپ کو ھمیشہ فکری استاد سمجھا ھے.

پڑھیے۔۔۔