زکوٰۃ کی رقم سے فلاحی کام

ہسپتال کی زمین خریدنے اور اس پر عمارت بنانے کے لیے ہمیں یہ بات تو واضح ہے کہ صدقے کی مد میں وصول ہونے والی رقم استعمال کی جا سکتی ہے، لیکن زکوٰۃ کی رقم شاید اس کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتی؟ اگر یہ بات صحیح ہے تو کیا ہم زمین خریدنے اور عمارت بنانے کے لیے زکوٰۃ کی رقم میں سے بطور قرض کچھ رقم لے سکتے ہیں؟نیز یہ بتائیں کہ کیا ہم زکوٰۃ کی رقم اپنی 'capital cost' کے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟

پڑھیے۔۔۔

مسافروں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں زکوٰۃ کا استعمال

میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے گلی محلے کے راستوں کی تکالیف کو دور کرنے کے اخراجات میں اپنے اموالِ زکوٰۃ کو صرف کرسکتے ہیں یا نہیں؟ ہم اگر ایسا کریں تودین کی رو سے ہمارے اِس طرح کے عمل کی کیا حیثیت ہو گی؟ کیا ایسا کرنا درست ہو گا؟

پڑھیے۔۔۔

نماز کی جگہ فلاحی کام کرنا

ہم نماز پڑ ھتے ہیں ، اس میں کم و بیش دو گھنٹے روزانہ لگتے ہیں ۔ کیا یہی وقت ہم دیگر فلاحی کاموں میں استعمال نہیں کر سکتے؟ دفتروں میں لوگ کام سے بچنے کے لیے نماز دیر سے پڑ ھتے ہیں ۔ جبکہ اہل مغرب ہمہ وقت کام کر کے ترقی کر رہے ہیں۔

پڑھیے۔۔۔