سلطنت اسرائیل اور یہود سے متعلق قرآن کی پیشین گوئی

باوجود اس کے کہ یہودیوں کو قرآن میں ملعون و مغضوب قرار دے دیا گیا ہے اور کہہ دیا گیا ہے کہ یہ جہاں کہیں بھی ہوں، ان پر ذلت کی مار ہے۔ قرآن کے اس فرمان کی صداقت مسلم، مگر ذرا سی کھٹک یہ پیدا ہوتی ہے کہ یہ غالب کیوں آگئے اور فلسطین کی ریاست کے قیام کی بنا پر عرب و عجم پر ان کا سکہ کیوں چلنے لگا کہ آج پورا عرب شاید ہی ان کے مقابلے میں آسکے۔ آل عمران (۳) کی آیات ۱۱۱ اور ۱۱۲ میرے پیش نظر ہیں۔ یہاں یہ فقرہ بھی موجود ہے: ’’ان پر محتاجی و مفلوکی مسلط کر دی گئی ہے‘‘۔

پڑھیے۔۔۔

فلسطین میں جہاد

٢٠٠٨ کے اواخر سے فلسطین کے مغربی کنارے کے مسلمان اپنے گھروں کے بجائے کھنڈر میں رہ رہے ہیں اور بچے، جو کل آبادی کا ساٹھ فیصد ہیں، خوراک کی کمی کا شکار رہی۔ تقریباً ہر اسکول کی عمارت تباہ ہو چکی ہے کیونکہ اسرائیل غیر قانونی طور پر بچوں کی غذا، سیمنٹ، کاغذ اور زندگی بچانے والی دواؤں تک رسائی میں رکاوٹ ڈالے ہوئے ہے۔ فلسطین کا صدر ایک ایسا شخص ہے جسے زیادہ تر لوگ نہیں چاہتے۔ وہ اس لیے اس منصب پر براجمان ہے کہ اسرائیل اور اس کے اتحادی ان لوگوں سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے جنھیں انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی۔ تمام مسلمان ممالک کے سربراہ زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے۔ مسلمانوں کی اکثریت اپنے بدعنوان لیڈروں اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی توقع نہیں رکھتے جبکہ اچھی سیاسی تنظیموں اور گروپوں کو مظلوم فلسطینیوں کی مدد کرنے کی پوزیشن میں آتے آتے کئی دہائیاں لگ جائیں گی۔ اس صورت حال میں کوئی ایک چھوٹا سا گروہ ایک Tactical Solution کے طو رپر مسلح جدوجہد کیوں شروع نہیں کر سکتا؟

پڑھیے۔۔۔