حديث ” رؤيا المؤمن جزء من ستۃ و اربعين جزء من النبوۃ ” اور مرزا کي نبوت

بخاري كي حديث ميں ہے: "رؤيا المؤمن جزء من ستة و اربعين جزء من النبوة" مرزائي اس قسم کي روايات مرزا کي نبوت کی دليل ميں پيش کرتے ہيں اور کہتے ہيں کہ حديث سے ثابت ہوتا ہے کہ جزوي نبوت جاري ہے۔ اس راۓئے اور حديث کے بارے ميں آپ کا کيا خيال ہے؟

پڑھیے۔۔۔

غلط عقائد والے مسلمانوں کو کيا سمجھيں؟

مرزائي غير مسلم اقليت قرار پائے۔ مرزائيوں سے ملتے جلتے ، بلکہ بعض دفعہ اس سے بڑھ کر غلط عقائد ہمارے مسلمانوں کے ہيں- ہم ايسے مسلمانوں کو کيا سمجھيں؟

پڑھیے۔۔۔

احمدیت کی سچائی

احمدیت تمام دنیا میں فروغ پا رہی ہے۔ کیا یہ اس کے سچا مذہب ہونے کی دلیل نہیں ہے۔

پڑھیے۔۔۔

مرزائیت کا علمی تجزیہ

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ایک عالم تو یہ سمجھنے میں کامیاب ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی ناقابل التفات ہیں، لیکن مجھ جیسا کم علم آدمی جو عقل تو رکھتا ہو لیکن علمی تجزیہ کرنے سے قاصر ہو، اپنے دل سے ان کی کشش کو کیسے دور کرے؟ برائے مہربانی مرزا صاحب کےعقائد کا جائزہ لے کر تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔

پڑھیے۔۔۔

قادیانیوں کے عقائد کی حیثیت

میرے ذہن میں چند سوال ہیں۔

۱۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسالت کے خاص منصب پر فائز تھے۔ لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انہیں وفات دینے کے بعد "کتب الله لاغلبن انا و رسلی" کے تحت اپنی طرف اٹھا لیا۔ ان کے غالب ہونے کا پھر کیا مطلب ہوا؟ میرے علم کے مطابق تو مسیحیوں کا یہودیوں پر غلبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تین سو سال بعد ہوا تھا۔ مجھے ایک قادیانی نے بتایا کہ ان کے رسول کا اس کے منکرین پر غلبہ ۳۰۰ سال بعد ممکن ہے۔ اس کی وضاحت بھی فرمائیں۔ 'سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا' اس طرح کا جملہ آپ نے مرزا صاحب کی تحریروں میں پڑھا ہو گا، اور مخلتف لوگوں پر عذاب کے قصے بھی قادیانی کتب میں مل جاتے ہیں۔ قادیانیوں کی ان باتوں کی کیا حیثیت اور حقیقت ہے؟ برائے مہربانی قرآن اور تاریخ کی روشنی میں تفصیلی وضاحت فرمائیں۔

پڑھیے۔۔۔

کسی کے واجب القتل ہونے کا فتوٰی دینا

کچھ دن پہلے جیو ٹی وی کے پروگرام ’’عالم آن لائن‘‘ میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی طرف سے یہ بات کہی گئی کہ پاکستان میں موجود قادیانی ’واجب القتل‘ ہیں ۔ اِس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات تو ملک میں آگ لگا سکتے ہیں اور اِن سے کسی خیر کے برآمد ہونے کی اُمید نہیں کی جا سکتی۔پاکستان کے لوگ ویسے ہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ، ایسے وقت میں اس طرح کے بیانات ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہی کا سبب بنیں گے۔ ابھی اسی طرح کی باتوں کی وجہ سے سندھ میں دو قابل قادیانی ڈاکٹروں کو قتل کیا گیا ہے ۔ اس طرح کی بیان بازیوں کے ذریعے عامر صاحب لوگوں کی کون سی خدمت بجالا رہے ہیں اور اس طرز کے بیانات کی وجہ سے قتل کیے جانے والے اِن ڈاکٹروں کے قتل کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ میرا خیال ہے کہ کوئی بھی شخص انفرادی طور پر اس طرح کے فیصلے کرنے کا مجاز نہیں ہے ، بلکہ اس طرح کے معاملات کا فیصلہ کرنا خدا، اُس کے رسول اور اُس کی کتاب کا کام ہے اور ہمیں اِن معاملات کو اُنہی پر چھوڑ دینا چاہیے ۔ معاشرے کے ہر دردمند اور ذمہ دار شخص کو اس طرح کے بیانات اور قتلوں کی بھرپور مذمت کرنی چاہیے ۔مجھے بتایا جائے کہ کیاکوئی شخص اس طرح اپنے طور پر کسی کے ’واجب القتل‘ ہونے کا فتویٰ دے سکتا ہے ؟

پڑھیے۔۔۔