قتل مرتد اور دور رسالت

دور رسالت ميں قتل مرتد کے دعوي کي دليل قرآن و حديث ميں کہاں ہے؟

پڑھیے۔۔۔

عیسائیت قبول کرنے والے کی سزا

اگر کوئی مسلمان عیسائی ہو جائے تو اس کی کیا سزا ہے؟ ہمارے ہاں افغانستان میں ایک مسلمان عیسائی ہو گیا ہے۔ ہمارے لوگ کہتے ہیں کہ اس کی سزا موت ہے؟

پڑھیے۔۔۔

رسول كا قتل

میں نے ریحان احمد یوسفی صاحب کا ایک مضمون پڑھا جس میں انہوں نے رسولوں کے قتل ہونے کی تردید کی ہے۔ لیکن میرے ذہن میں کچھ سوالات ہیں۔ ریحان یوسفی صاحب نے قرآن کی سورہ مومن کی آیت نمبر ٥ اور سورہ صٰفٰت کی آیت ١٧٢ اور ١٧٣ کو رسولوں کے قتل ہونے کے رد میں پوری قوت کے ساتھ پیش کیا ہے جب کہ یہ دونوں سورتیں مکی ہیں۔ اگر مکہ میں نازل ہونے والی ان آیتوں کی رو سے رسول کے قتل کے امکان کی تردید کی جا سکتی ہے تو پھر کیا وجہ تھی کہ: ١۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ کو ہجرت کر رہے تھے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے، اور جب وہ غار ثور میں ٹھہرے تھے اور کافران کا پیچھا کرتے ہوئے غار تک پہنچ گئے تھے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ غمگین کیوں ہو گئے تھے؟ اور وہ اپنے لیے غمگین نہیں ہوئے تھے بلکہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غمگین ہوئے تھے۔اگر رسول قتل نہیں ہو سکتا تو حضرت ابوبکر کو رسول کے لیے کیوں غمگین ہونا پڑا۔ ٢۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی جنگ میں شرکت کے لیے جاتے تو کیوں جب وہ آرام فرماتے تو صحابہ رضی اللہ عنہ ان کے خیمے کے گرد پہرہ دیتے تا کہ کوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان نہ پہنچا سکے؟ ٣۔ جنگ احد کے موقع پر بھی صحابہ رضی اللہ عنہم لگاتار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جان حفاظت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔٤۔ جنگ احد کے موقع پر جب لوگوں نے یہ افواہ پھیلائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو صحابہ رضی اللہ نے اس بات پر یقین کیسے کر لیا؟ ٥۔ رجم کے بارے میں قرآن کے الفاظ کی وضاحت غامدی صاحب نے جس طرح بیان فرمائی ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ عربی زبان میں الزانیۃ والزانی جیسے الفاظ کنوارے زانی کے لیے استعمال ہی نہیں ہو سکتے اسی طرح میرے خیال میں نبی کے قتل کا اگر ذکر ہو رہا ہو تو لفظ رسول کا استعمال بھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔٦۔ بخاری میں ایک حدیث ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا گیا تھا اور وہ بدن میں پھیلتا رہا اور آخر کار اس سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات واقع ہوئی، اس کی وضاحت بھی کریں۔

پڑھیے۔۔۔

کفر اور شرک

میرا سوال المورد ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک جواب سے متعلق ہے جس کا لنک یہ ہے:

http://www.al-mawrid.org/pages/questions_english_detail.php?qid=900&cid=51

اس جواب میں کہا گیا ہے کہ کفر ایک رویہ ہے جو لوگوں کے کسی بھی گروہ پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اور ایک شخص، اگرچہ وہ کافر ہو یا نہ ہو مشرک ہو سکتا ہے۔ سورہ بیّنہ (۹۸) کی پہلی آیت کے مطابق، "اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنہوں نے (قرآن کا) انکار کیا وہ اپنی ہٹ سے باز آنے والے نہیں ہیں، یہاں تک کہ ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں آ جائیں۔" اسی سورہ کی آیت ۶ میں کہا گیا ہے کہ "بے شک اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنہوں نے کفر کیا وہ دوزخ کی آگ میں پڑیں گے، اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے، یہی لوگ بدترین خلائق ہیں۔" جب میں ان آیات کا بغور مطالعہ کرتا ہوں تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے قرآن کو جھٹلایا اور اسلام قبول کیا اصل میں انہوں نے قرآن کو جھٹلایا نہیں بلکہ اسے مانا۔ تو اس آیت میں یہ کیوں کہا گیا ہے کہ جنہوں نے قرآن کو جھٹلایا نہیں وہ پھر بھی مشرکین اور اور اہل کتاب ہیں لیکن کافر نہیں ہیں؟َ برائے مہربانی وضاحت فرمائیے۔

میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اگر کسی مسلمان نے کسی دوسرے مسلمان کو قتل کیا وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ تو کیا اگر وہ کسی غیر مسلم کو قتل کرے پھر بھی وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا؟

نمبر ۳ یہ کہ قرآن و حدیث کے حوالہ کےساتھ یہ بھی بتائیں کہ وہ کون سا گناہ ہے جس کی پاداش میں انسان ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائیگا؟

اور نمبر ۴ یہ کہ کیا گناہ چھوٹا ہو یا بڑا سب کی سزا ایک جیسی ہو گی؟

برائے مہربانی تفصیلی وضاحت فرمائیں۔

پڑھیے۔۔۔

کیا اللہ کے رسول قتل ہو سکتے ہیں؟

"رسول کبھی قتل نہیں ہوا البتہ نبی قتل ہوئے ہیں"، یہی فقرہ اکثر جاوید احمد غامدی صاحب اور ان کے دیگر ہم نظریہ علماء کی تحریروں میں ملاحظہ کیا جاتا ہے۔ قرآن پاک میں تقریباً ۵ موقعوں پر نصوص موجود ہے کہ بنی اسرائیل نے رسولوں کی تکذیب کی اور ان کو قتل کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں کہ"اگر یہ قتل ہو جائیں تو"۔ اگر آپ کا جواب یہ ہے کہ یہاں پر قتل کا احتمال بیان ہو رہا ہے تو پھر احتمال ان کے فوت ہونے کے بارے میں بھی موجود ہے۔ برائے مہربانی تفصیلی وضاحت فرمائیے۔

پڑھیے۔۔۔

شہادت حضرت عثمانؓ

یہ سوال جناب ریحان احمد یوسفی کی خدمت میں ہے جو کہ المورد ویب سائٹ پر اردو سوالات کی فہرست میں پوسٹ کیے گئے ایک سوال سے متعلق ہے جس کا جواب جناب ریحان احمد یوسفی صاحب نے دیا ہے۔ ان کا دیا گیا جواب نا قابل سمجھ ہے۔ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ لوگ بغیر کسی ٹھوس وجہ کے حضرت عثمانؓ کے خلاف کیوں جاتے؟ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس بارے میں کوئی شک نہیں کے حضرت عثمانؓ کے دور خلافت میں بھی بہت سے مسائل موجود تھے۔ اور ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیےجيسا کہ جناب یوسفی صاحب نے كہا فسادی گروہ کی قیادت حضرت ابو بکرؓ کا بیٹا اور حضرت عائشہؓ کا بھائی کر رہا تھا۔ اگر فسادی گروپ کو طلحہ، زیبر، اور علی رضی اللہ عنہم کو مارنا تھا، اور پھر بعد میں طلحہ اور زبیر کا آرمی میں شامل ہو جانا اور حضرت علیؓ پر حملہ کرنا کیا ثابت کرتا ہے؟ کیا یہ یہ ثابت کرتا ہے کہ حضرت علیؓ غلط راستے پر تھے اس لیے طلحہ اور زبیر نے ان سے قصاص لینے کے لیے حضرت علیؓ کے خلاف فوج بندی کی۔ علیؓ پر وہاں کیوں شک کیوں کیا گیا جب کہ سب جانتے ہیں کہ علیؓ ، حضرت محمدؐ سے کتنے قریب ہیں اور ان کا کردار کسی بھی خامی سے پاک ہے؟کیوں حضرت معاویہؓ اور ان کے ساتھیوں نے حضرت علیؓ کو حضرت عثمانؓ کے قتل کا ذمہ دار تصور کر لیا بجائے اس کے کہ ان کا ساتھ دیا جائے؟ کیوں پیغمبرؐ کا خاندان ہی آخر تک قتل کی سزا بھگتتا رہا؟ علیؓ، حسنؓ، حسینؓ اور ان کا پورا کا پورا خاندان انہی (فسادی گروہ) لوگوں کے ہاتھوںکیوں مارا گیا؟

کربلا جو کہ ایک بہت پرانا واقعہ ہے اور کوئی بھی نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے بنیادی وجہ کیا ہے. برائے مہربانی مجھے اس سوال کا جواب تفصیل کے ساتھ دیا جائے مناسب تاریخی حوالوں اور ثبوت کے ساتھ۔ اور مہربانی فرما کر مجھے اس جنگ کے پیچھے چھپی ہوئی حقیقت کے بارے میں بتائیے اور اس بارے میں بھی رہنمائی فرمائیے کہ یزید کی اسلامی تاریخ میں کیا پہچان ہے؟ یہ ایک نازک مسئلہ ہے اور ہمیں چاہیے کہ ہم اس کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کریں۔

پڑھیے۔۔۔