قرآن كی آيات كا دم كرنا

ميں نے ذندگی ميں اكثر ديكھا ہے كہ لوگ بيمار ہوتے ہيں تو ان پر قرآن كی آيات پڑھ كر دم كيا جاتا ہے۔ جو لوگ يہ كرتے ہيں وه ساتھ ميں يہ كہتے ہيں كہ قرآن مجيد ميں ہر بيماری كا علاج ہے۔ آپ كی اس بارے ميں كيا رائے ہے؟ كيا ايسا كرنا ٹھيك ہے؟ دم كے حوالے سے ايك صحيح حديث ہے جس كا مفہوم يہ ہے كہ نبی صلی الله عليہ و سلم چار قل پڑھ كے اپنے اوپر دم كيا كرتے تھے۔ براہ كرم وضاحت فرمائيں۔

پڑھیے۔۔۔

روز مرہ کی بیماریوں کے علاج کے لیے قرآنی آیات کا استعمال

کیا روز مرہ کی بیماریوں کے علاج کے لیے قرآنی آیات کا استعمال درست ہے؟

پڑھیے۔۔۔

فلاح انسانی کے لیے وظائف

روحانیت اور تصوف کی دنیا میں بالخصوص اور روایتی مذہبی طبقہ میں بالعموم بہت سے وظائف رائج ہیں۔یہ طے ہے کہ یہ دین کا حصہ نہیں ہیں۔ میرا تجربہ ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کے اسماے گرامی اور آیات قرآنی ہی استعمال کیے جاتے ہیں۔ مختلف مسائل کے لیے مخصوص طریق کار اور تعداد میں پڑھنے سے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔فلاح انسانی سے یقینا اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں۔ اگر فلاح انسانی کے لیے وظائف ، درود شریف اور قرآنی آیات سے یہ فائدہ اٹھایا جائے تو اس میں کیا حرج ہے؟

پڑھیے۔۔۔

حدیث و سنت اور قرآن

میرا سوال یہ ہے کہ کیا ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کو ان کے والد کے طریقہ پر عمل کرنے کا حکم قرآن نے دیا ہے جس کے بعد محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اس میں کمی یا اضافہ کے ساتھ ہمارے لئے سنت جاری کی۔ حدیث ، وحی ، سنت اور دیگر اصطلاحات قرآن نے اپنے لئے استعمال کی ہیں تو پھر ہم حدیث کی کتابوں کو کوئی اور نام کیوں نہیں دیتے۔ کیا قرآن ہمارے لئے کافی نہیں ہے؟

پڑھیے۔۔۔