اسلام میں عقیقہ کا حکم

عقیقہ فرض ہے یا سنت ہے؟ اور کیا بچے کی پیدایش کے بعد کچھ متعین دنوں کے اندر اندر ہی عقیقہ کرنا ضروری ہے؟

پڑھیے۔۔۔

حج و عمرہ اکٹھا کرنے والے کے لیے قربانی کی تعداد

حج اور عمرہ اکٹھا کرنے والے کو ایک قربانی کرنا ہو گی یا دو؟

پڑھیے۔۔۔

غیر زائر ین حرم کی قربانی

زائرین حرم کے علاوہ عام مسلمان جو اپنے اپنے علاقوں میں قربانی کرتے ہیں، کیا ان کا یہ قربانی کرنا درست ہے، جیسا کہ پاکستان میں کی جاتی ہے؟کیا پاکستان میں قربانی صحیح طریقے سے کی جا رہی ہے؟

پڑھیے۔۔۔

حج میں قربانی کی نوعیت

ہم حج کے لیے نکلتے ہیں۔ حج کے یہ ارکان ہیں: ۱۔ احرام باندھنا۔ ۲۔ منیٰ میں جانا اور قیام کرنا۔ ۳۔ عرفات کی طرف جا کر وقوف کرنا۔ ۴۔ مذدلفہ میں رات کا قیام۔ ۵۔ واپس منیٰ میں آنا اور رمی جمرات میں حصہ لینا۔ ۶۔ قربانی۔ ۷۔ بال کٹوانا اور احرام کھولنے کے بعد کپڑے بدلنا۔ میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد میں نہیں کی جاتی بلکہ یہ عمرہ کے کے بعد احرام اتارنے کا ایک دم ہے۔ اگر عمرہ کے بعد آپ حج تک احرام باندھے رکھتے ہیں تو قربانی نہیں ہو گی۔ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔

پڑھیے۔۔۔

حج کے ساتھ قرباني

کيا صرف حج تمتع ہي ميں قرباني لازم ہے يا اکيلا حج يا عمرہ کيا جاۓ تب بھي قرباني فرض ہے؟

پڑھیے۔۔۔

حالتِ احرام میں جانور ذبح کرنا

کیا حالتِ احرام میں کوئی شخص اپنی قربانی کے جانور کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرسکتا ہے ؟

پڑھیے۔۔۔

عیدالاضحی پر جانوروں کی قربانی

سورۂ حج میں قربانی کو حج کا ایک اہم رکن بتایا گیا ہے لیکن اس کے علاوہ کسی دوسرے موقع کی قربانی کا پورے قرآن میں کہیں ذکر نہیں ملتا۔ اسی کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی زندگی میں ایک ہی مرتبہ قربانی کی جب آپ نے حج ادا فرمایا اور صحابۂ کرام نے بھی ایسا ہی کیا، لیکن آج ساری دنیا کے مسلمان ہر سال عید الاضحی کے موقع پر جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ جس چیز کا قرآن و حدیث اور رسول اللہ کی زندگی میں کہیں ذکر نہیں ملتا وہ آج ہمارے مذہب کا حصہ بن گئی ہے اور ہم ہر سال پورے مذہبی جوش و خروش سے اس کا اہتمام کرتے ہیں؟ اگر ہم سماجی اور معاشی پہلو سے اس بات کاجائزہ لیں تو ہر سال اس پر جو خطیر رقم خرچ کی جاتی ہے ، اسے ہم اگر ا سکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیر پر خرچ کریں تو دنیا بھر میں مسلمان معاشروں کی حالت بالکل ہی تبدیل ہوجائے۔ اس طرح تو مسلمان ممالک مل کر World Bank کی طرح کا اپنا ایک مالیاتی ادارہ وجود میں لا سکتے ہیں جو انہیں غیروں کی معاشی غلامی سے نجات دے سکتا ہے ، لیکن ہم یہ سب کام کرنے کے بجائے ہر سال یہ خطیر رقم باربی کیو کے اہتمام پر لگاتے ہیں۔ میں نے پچھلے کئی سال سے قربانی نہیں کی ، بلکہ میں یہ رقم ایدھی ٹرسٹ یا کسی ہسپتال کو خیرات کی نیت سے دے دیتا ہوں تاکہ وہ دکھی انسانیت کی خدمت میں استعمال ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ان خیالات پر کچھ روشنی ڈالیں؟

پڑھیے۔۔۔