رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب کا دھونا

حدیث میں ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب کو فرشتوں نے دھویا۔ ایسا دنیا کو دکھانے کے لیے کیا گیا یا معجزے کے طور پر؟

پڑھیے۔۔۔

قلب کی حقیقت

مجھے یہ سمجھنے میں مشکل پیش آرہی ہے کہ 'قلب' کیا ہے۔ میں اپنا اشکال تفصیل سے بیان کر رہا ہوں۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس کا مطالعہ کرکے میرا یہ مسئلہ حل کر دیں۔

سورہ بقرہ کی آیت ١٠ میں ہے: 

''ان کے دلوں میں بیماری ہے اور اللہ نے ان کی بیماری بڑھا دی۔''

ہم نے لفظ 'قلب' کا ترجمہ دل کیا ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید میں کئی مرتبہ آیا ہے۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے پرانے فلسفی اور مذہبی کتابیں بھی دل کا ذکر مرکز احساسات کے طور پر کرتے ہیں۔ لیکن جدید نفسیات کے مطابق یہ بات بالکلیہ غلط ہے:

''قدیم فلسفی اور مقبول عام تصور دل کو جذبات کا محل قرار دیتا ہے۔ اس کے برعکس جدید سائنسی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دماغ ہی محرکات، داعیات اور جذبات کی آماج گاہ ہے۔

'' (Psychology for VCE, Valerie Clarke & Susan Gillet, Chapter3, Page 48)


محبت جیسی چیز کو بھی اب دماغ کے ایک حصے میں خون کے بہاؤ کی پیمایش سے متعین کر لیا گیا ہے۔ مزید کے لیے دیکھیے:

(The Science of Love, Charles Pasternak)


اب بتائیے کہ قرآن کے قلب کی تعریف (Definition) کیسے کی جائے گی۔ اگر ہم صوفیا کے اس قول کو مان لیتے ہیں کہ قلب انسانی روح کا ایک لطیف جزو ہے جس کے ساتھ انسان کے بہت سے خصائص وابستہ ہیں تو اس چیز کو بھی جدید نفسیات غلط قرار دیتی ہے:

''سترویں صدی عیسوی میں فرانسیسی فلسفی رینے ڈیکارٹ نے دہرے پن کا تصور پیش کیا ۔ یعنی ذہن (یا روح) اور جسم الگ الگ چیزیں ہیں۔ ذہن اور جسم کا الگ الگ آزاد وجود انھی فلسفیوں کو معقول دکھائی دیتا ہے جنھیں انسانی جسم کی پیچیدگیوں کا کچھ بھی اندازہ نہیں تھا۔ انیسویں صدی عیسوی کے دوران میں ہم نے دماغ کی کارکردگی کو بہتر طور پر سمجھنا شروع کر دیا تھا۔ اس کا آغاز غالباً ١٨٦٠ء میں بروکا (Broca) کی دریافت سے ہوا تھا۔ یعنی دماغ کا وہ حصہ جس میں گفتگو وجود پاتی ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی کی سائنسی دریافتیں دہرے پن کے تصور کو رد کرکے وحدت کا تصور پیش کرتیں ہیں۔ مراد یہ ہے کہ کوئی شے اس وقت تک ذہنی نہیں ہوتی جب تک وہ جسمانی نہ ہو۔

'' (Psychology for VCE, Valerie Clarke & Susan Gillet, Chapter3, Pa

پڑھیے۔۔۔