معصوم لوگوں کو نمونہ عبرت بنایا جانا

بعض اوقات اللہ تعالیٰ بے گناہ اور معصوم لوگوں کو دوسروں کے لیے عبرت کا نمونہ بنادیتے ہیں۔ جنھیں عبرت بنایا گیا ہے، ان کا کیا قصور ہے؟

پڑھیے۔۔۔

انسانوں کی آزمایش کی حکمت

اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے۔ کیا وہ انسانی مزاج کو نہیں جانتا پھر اسے امتحان لینے کی کیا ضرورت ہے؟

پڑھیے۔۔۔

دین کے بنیادی نظریات کا اثبات

دین کے بنیادی نظریات نظری طور پر ہی ثابت ہو سکتے ہیں، کیا جزا و سزا کے لیے یہ بنیاد کافی ہے؟

پڑھیے۔۔۔

نجات میں ایمان بالرسول کی حیثیت

سورہ مائدہ کی آیت ٦٩ میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ جو لوگ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کے ساتھ، عمل صالح کو اختیار کریں گے، ان کی بخشش ہو جائے گی، اس آیت سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسان کی نجات میں ایمان بالرسول کی کوئی حیثیت نہیں، کیا یہ بات صحیح ہے؟

پڑھیے۔۔۔

قيامت كا وقوع

بعض علما کا یہ خیال ہے کہ مرنے کے فوراً بعد ہر انسان کے اعمال کا حساب کتاب ہو جاتا ہے اور وہ جنت یا دوزخ جس کا بھی مستحق ہو، اس میں چلا جاتا ہے۔ یہی وہ قیامت ہے جو انسان پر آنی ہے۔ اس فوراً حساب کتاب کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ''سریع الحساب'' ہے، لہٰذاوہ قیامت کے حساب کتاب میں دیر نہیں کرتا۔ لیکن علما ہی کے ایک دوسرے گروہ کا خیال یہ ہے کہ حساب کتاب قیامت ہی کے دن ہو گا، وہاں از اول تا آخر تمام انبیا کو اور ان کی امتوں کو اکٹھا کیا جائے گا، پھر ان کے اعمال کا حساب کتاب ہو گا اور پھر اس کے بعد لوگ اپنے اچھے یا برے اعمال کے مطابق جنت یا دوزخ میں جائیں گے۔

آپ یہ بتائیے کہ قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں ان دونوں میں سے کون سی راے صحیح ہے ؟

پڑھیے۔۔۔

قیامت کا مفہوم

کیا قیامت کا مطلب دنیا اور کائنات کا خاتمہ ہے یا اس سے مراد وہ وقت اور زمانہ ہے، جب اللہ تعالیٰ کا نظام، یعنی دین نافذ ہو جائے گا؟ اس سلسلے میں قرآن مجید سے کیا بات ثابت ہوتی ہے؟

پڑھیے۔۔۔

آخري صدي

کيا يہ صدي واقعتا آخري صدي نہيں ہے جيسا کہ نيوٹن اور بعض ديگر سائنس دانوں کا خيال ہے کہ يہ دنيا اسي صدي ميں ختم ہو جائے گي

پڑھیے۔۔۔

قیامت کا تصور

انسان کے اندر نیکی اور بدی کا شعور ہے۔ وہ انصاف کا ایک تصور بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔ یعنی یہ اس کی فطرت میں موجود ہے۔ اگر یہی حقیقت ہے اور وا‏قعی یہی ہے تو اس حقیقت کا ایک تقاضا ہے، ایک نتیجہ ہے اور وہ یہ کہ اس ظالم دنیا کی جگہ (خدا تعالی کے منصف ہونے کی وجہ سے) کوئی ایسی دنیا وجود پذیر ہو جہاں نیکی کا نتیجہ اچھا اور برائی کا نتیجہ برا نکلے۔ اس وجہ سے قیامت کا تصور ایک ایک واضح حقیقت کے طور پر ہمارے سامنے آتا ہے۔ میرا سوال یہاں پہ یہ ہے کہ ہم اس ساری بحث کے نتیجے کے طور پر قیامت کی جگہ نروانا یا ایسی ہی کسی فلاسفی کو کیوں نہ مانیں۔ اور قیامت ہی کو اس کا فطری تقاضا کیوں قرار دیں۔

پڑھیے۔۔۔

روزِ قیامت دیگر مخلوقات کا معاملہ

یہ جو انسانوں کے علاوہ بے شمار اور ان گنت مخلوقات ہیں ، روزِ قیامت ان کا کیا معاملہ ہو گا؟ کیا ان کا بھی کوئی حساب کتاب ہو گا اور انہیں بھی ان کے اچھے اعمال کی جزا اور برے کاموں کی سزا دی جائے گی؟ اگر ہاں تو کیسے ؟ کیا یہ بھی جنت یا جہنم میں جائیں گی؟ کس شکل میں ؟ ان سوالات نے مجھے کافی پریشان کیا ہوا ہے ، لہٰذا جواب دینے کے لیے میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں گا۔

پڑھیے۔۔۔

روزِ قیامت نجات کی بنیادیں

عام طور پر مسلمان بالخصوص پاکستانی مسلمان یہ کہتے ہیں کہ گو کہ ہم اپنے گنا ہوں کے باعث جہنم میں جائیں گے لیکن بس چند دنوں کے لیے اور پھر اپنے گنا ہوں کی سزا پانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی بدولت ہم جنت میں داخل کر دیے جائیں گے۔ میں نے قرآن کا مطالعہ کیا ہے مگر اس میں ایسی کوئی بات نہیں پڑھی، بلکہ میں نے تو یہ پڑھا ہے کہ سب سے پہلے یہ خیال یہودیوں کے اندر پیدا ہوا لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر اس کی تردید فرمادی کہ کیا تم نے اللہ سے ایسا کوئی عہد کر رکھا ہے کہ اللہ اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ براہِ مہربانی ذرا اس معاملے کی وضاحت فرمادیں؟

پڑھیے۔۔۔

اچھے کام کرنے والے غیر مسلموں کا انجام

ان غیر مسلموں کا کیا ہو گا جو اچھے اچھے کام کرتے ہیں اور اپنی تحقیقات اور کوششوں سے لاکھوں لوگوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں؟

پڑھیے۔۔۔

مسلمانوں اور غیر مسلموں کی نجات

عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ تمام مسلمان جنت میں جائیں گے ۔میرا خیال ہے کہ اس یقین نے ہمیں سچائی اور صحیح راہ سے ہٹادیا ہے کیونکہ ہمارا احساس ہے کہ ہم جو بھی کریں بالآخر تو جنت میں جانا ہی ہے ۔ کیا یہ خیال درست ہے؟

پڑھیے۔۔۔