قیامت کا تصور

انسان کے اندر نیکی اور بدی کا شعور ہے۔ وہ انصاف کا ایک تصور بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔ یعنی یہ اس کی فطرت میں موجود ہے۔ اگر یہی حقیقت ہے اور وا‏قعی یہی ہے تو اس حقیقت کا ایک تقاضا ہے، ایک نتیجہ ہے اور وہ یہ کہ اس ظالم دنیا کی جگہ (خدا تعالی کے منصف ہونے کی وجہ سے) کوئی ایسی دنیا وجود پذیر ہو جہاں نیکی کا نتیجہ اچھا اور برائی کا نتیجہ برا نکلے۔ اس وجہ سے قیامت کا تصور ایک ایک واضح حقیقت کے طور پر ہمارے سامنے آتا ہے۔ میرا سوال یہاں پہ یہ ہے کہ ہم اس ساری بحث کے نتیجے کے طور پر قیامت کی جگہ نروانا یا ایسی ہی کسی فلاسفی کو کیوں نہ مانیں۔ اور قیامت ہی کو اس کا فطری تقاضا کیوں قرار دیں۔

پڑھیے۔۔۔