لباس اور شریعت

لباس میں دین و شریعت کے اعتبار سے کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے، کیا پینٹ شرٹ پہننا جائز ہے؟

پڑھیے۔۔۔

ستر كا حكم

قرآن و حدیث کے مطابق مرد وں کو اپنی شرم گاہوں اور عورتوں کو اپنی شرم گاہوں اور سینے کے علاوہ جسم کے اور کون کون سے حصے ڈھانپنے چاہییں؟

پڑھیے۔۔۔

ستر سے متعلق

میرا سوال جناب طالب محسن کے ایک جواب سے متعلق ہے، جو کہ ویب سائٹ پر"مرد کا ستر" کے عنوان سے پوسٹ کیا گیا ہے۔ اس میں ایک پیرا گراف میں جناب مصنف نے یہ لکھا ہے کہ کلچرز کے مختلف ہونے کی صورت میں ہمیں اس کلچر کو ترجیح دینی چاہیے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا۔ کیوں کہ اسے خدا کی طرف سے تصویب حاصل ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ کلچر خدا کی طرف سے وحی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تصویب ہوا تھا؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔

پڑھیے۔۔۔

ستر سے متعلق

میں نے چند سوال بھیجے تھے جن کا جواب بھی مجھے مل گیا مگر مجھے ان کے بارے میں مزید تفصیل چاہیے۔ اس لیے میں سوالات دوبارہ عرض کرنا چاہتا ہوں جو کہ درج ذیل ہیں:

١ - کیا 'ستر' قرآن اور حدیث نے متعین کیا ہے ؟ کیا یہ فرض ہے ؟ کیا اس کی خلاف ورزی حرام ہے یعنی اگر ران کا کچھ حصّہ کھلا ہو تو یہ 'حرام' ہوگا ؟ اور کیا ایسی حالت میں نماز نہیں ہو سکتی ؟ فقہا اس کو کس دلیل کی بنا پر لازم قرار دیتے ہیں ؟ کیا تمام فقہا اس قانونی 'ستر' پر متفق ہیں یا ان میں کوئی اختلاف بھی پایا جاتا ہے ؟

٢- عورت کے ستر کے بارے میں ایک حدیث پیش کی جاتی ہے جو حضرت اسما بنت ابو بکر سے مروی ہے - میرے علم کے مطابق کم و بیش سب ہی علما شاید اسی حدیث کی رو سے چہرہ ، ہاتھ اور پاؤں کے سوا تمام جسم کو ستر قرار دیتے ہیں - کیا علماۓ امّت میں سے کسی اور نے بھی اس سے مختلف رائے کا اظہار کیا ہے ؟ کیا اس حدیث میں کوئی ضعف ہے یا اس کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے ؟

٣ - دین میں لباس کے حدود کو متعین نہ کرنے، اور صرف حیا کی تعلیم دے کر چھوڑ دینے میں کیا حکمت ہے ؟ کیونکہ انسانی معاشروں میں اس معاملے میں افراط و تفریط دیکھ کر ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے انسان کے پاس اس معاملے میں فیصلہ کرنے کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے اور ہر معاشرے میں حیا کے اظہار اور اطلاق کے پیمانے الگ ہیں -

گزارش ہے کہ تینوں اجزاء کے تفصیلی جوابات عنایت کریں-

پڑھیے۔۔۔

مرد کا ستر

١- جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ مرد کا ستر ناف سے گھٹنوں تک ہے اور یہ نماز کی شرائط میں سے بھی ہے، اس کی کیا حقیقت ہے اور کن دلائل کی بنیاد پر ایسا کہا جاتا ہے؟ کیا یہ الله اور رسول نے متعین کیا ہے یا فقہا کی اپنی رائے ہے؟ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

٢- عورت کے ستر کے بارے میں ایک حدیث پیش کی جاتی ہے جو حضرت اسما بنت ابو بکر سے مروی ہے- میرے علم کے مطابق کم و بیش سب ہی علما شاید اسی حدیث کی رو سے چہرہ، ہاتھ اور پاؤں کے سوا تمام جسم کو ستر قرار دیتے ہیں- کیا علمائے امّت میں سے کسی اور نے بھی اس سے مختلف رائے کا اظہار کیا ہے؟ کیا اس حدیث میں کوئی ضعف ہے یا اس کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے؟

٣- جیسا کہ میں سمجھتا ہوں، آپ لوگوں کا کہنا ہے کہ شریعت نے لباس کےحدود و خدوخال متعین نہیں کیے بلکہ شرم و حیا اور ایک مہذب لباس کی تلقین کی ہے، جب کہ زیب و زینت نہ کی ہوئی ہو- مجھ پر اس کا اطلاقی پہلو کچھ واضح نہیں ہے- گویا ہر ایک کو اپنے لیے مہذب لباس کا فیصلہ خود کرنا ہے، تو اس فیصلے میں معاشرے کے معروف معیار کا کتنا دخل ہے یا یہ محض اپنے فطری احساس پر مبنی ہے- شرمگاہوں کو اچھی طرح ڈھانپنے کے بعد اگر معاشرے کے معروف کی پیروی کی جاۓ تو کیا دین کا منشا پورا ہو جاتا ہے؟شرمگاہوں کی حفاظت تو ایک فطری امر بھی ہے، لیکن اس سے اوپر اوپر ہر معاشرے میں مہذب لباس کا تصور مختلف ہوتا ہے- ایک مغربی معاشرے میں بازو اور پنڈلی ( اور شاید کندھے بھی ) کھلے ہونے کے باوجود لباس مہذب ہی کہلاتا ہے اور ذرا بھی عجیب اور معیوب نہیں سمجھا جاتا- تو ایک مغربی عورت کو کیسے کہا جائے کہ مہذب لباس وہی ہے جو پاکستان میں مہذب کہلاتا ہے- مزید یہ کہ دین میں لباس کے حدود کو متعین نہ کرنے میں کیا حکمت ہے؟ مثلا کیا یہی کہ مختلف معاشروں میں ان کے حالات کے اعتبار سے رعایت کی جائے اور لوگوں کے لیے تنگی نہ پیدا ہو؟معلوم نہیں میں اپنا سوال واضح کر سکا ہوں یا نہیں-

براہ کرم میری کم علمی پر در گزر کریں اور تفصیلی وضاحت فرمادیں۔

پڑھیے۔۔۔

عورت کا نماز کا لباس

میری بیوی اس خیال کے تحت کہ نماز کے لیے بازو کہنی تک ڈھانپنا کافی ہے، نماز پڑھتی رہی ہے۔ اسے کسی نے بتایا ہے کہ عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ نماز میں کلائیاں بھی ڈھانپے۔ مجھے ان دونوں آرا کا استدلال معلوم نہیں ہے۔ ازراہِ کرم رہنمائی فرمائیے؟

پڑھیے۔۔۔

عورت اور مرد كا سترڈھانپنا

جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ مرد کا ستر ناف سے گھٹنوں تک ہے اور یہ نماز کی شرائط میں سے بھی ہے، اس کی کیا حقیقت ہے اور کن دلائل کی بنیاد پر ایسا کہا جاتا ہے ؟ کیا یہ اللہ اور رسول نے متعین کیا ہے یا فقہا کی اپنی رائے ہے ؟ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟

عورت کے ستر کے بارے میں ایک حدیث پیش کی جاتی ہے جو حضرت اسما بنت ابو بکر سے مروی ہے - میرے علم کے مطابق کم و بیش سب ہی علما شاید اسی حدیث کی رو سے چہرہ ، ہاتھ اور پاؤں کے سوا تمام جسم کو ستر قرار دیتے ہیں - کیا علمائے امّت میں سے کسی اور نے بھی اس سے مختلف رائے کا اظہار کیا ہے ؟ کیا اس حدیث میں کوئی ضعف ہے یا اس کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے ؟

جیسا کہ میں سمجھا ہوں ، آپ لوگوں کا کہنا ہے کہ شریعت نے لباس کےحدود و خدوخال متعین نہیں کیے بلکہ شرم و حیا اور ایک مہذب لباس کی تلقین کی ہے ، جب کہ زیب و زینت نہ کی ہوئی ہو- مجھ پر اس کا اطلاقی پہلو کچھ واضح نہیں ہے - گویا ہر ایک کو اپنے لیے مہذب لباس کا فیصلہ خود کرنا ہے ، تو اس فیصلے میں معاشرے کے معروف معیار کا کتنا دخل ہے یا یہ محض اپنے فطری احساس پر مبنی ہے - شرمگاہوں کو اچھی طرح ڈھانپنے کے بعد اگر معاشرے کے معروف کی پیروی کی جا تو کیا دین کا منشا پورا ہو جاتا ہے ؟ شرمگاہوں کی حفاظت تو ایک فطری امر بھی ہے ، لیکن اس سے اوپر اوپر ہر معاشرے میں مہذب لباس کا تصور مختلف ہوتا ہے - ایک مغربی معاشرے میں بازو اور پنڈلی ( اور شاید کندھے بھی ) کھلے ہونے کے باوجود لباس مہذب ہی کہلاتا ہے اور ذرا بھی عجیب اور معیوب نہیں سمجھا جاتا - تو ایک مغربی عورت کو کیسے کہا جا کہ مہذب لباس وہی ہے جو پاکستان میں مہذب کہلاتا ہے - مزید یہ کہ دین میں لباس کے حدود کو متعین نہ کرنے میں کیا حکمت ہے ؟ مثلا کیا یہی کہ مختلف معاشروں میں ان کے حالات کے اعتبار سے رعایت کی جا اور لوگوں کے لیے تنگی نہ پیدا ہو ؟ معلوم نہیں میں اپنا سوال واضح کر سکا ہوں یا نہیں-

براہ کرم میری کم علمی پر در گزر کریں اور تفصیلی وضاحت فرمایں - جزاک اللہ

پڑھیے۔۔۔

ساڑھی اور مسلمان خواتین

اگر خواتین اسلامی لباس کی خصوصیات سے اچھی طرح واقف ہوں کہ انہیں اپنے جسم کو اچھی طرح چھپانا ہے اور اپنے اعضا کی بناوٹوں کو بھی نمایاں نہیں ہونے دیناتو کیا وہ انڈین ساڑ ھی پہن سکتی ہیں؟ اگر ہاں تو کیا اس طرح کے لباس پہن کر آفس بھی جایا جا سکتا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

میاں بیوی کے تعلقات

میاں اور بیوی کے تعلق کے حوالے سے میرا سوال یہ ہے کہ اُن کے تعلق کی حدود کیا ہیں اور وہ کس انتہا تک جا سکتے ہیں؟ مثلاًکیا وہ بغیر لباس بالکل برہنہ ہوتے ہوئے ایک ساتھ غسل کرسکتے اور شاور لے سکتے ہیں ؟

پڑھیے۔۔۔

دین اور لباس

دین میں شلوار قمیض کا کیا مقام ہے؟

پڑھیے۔۔۔

مردوں کے ليے سونے اور ریشم کا استعمال

1- کیا اسلام میں مردوں کے لیے سونا استعمال کرناحرام ہے حالاں کہ قرآن میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ زینت کی چیزیں جس طرح آخرت میں مومنوں کے لیے ہوں گی اسی طرح وہ دنیا میں بھی ان کے لیے ہیں؟

2- کیا ریشم کے کپڑ ے مردوں کے لیے ناجائز ہیں حالانکہ قرآن زینت کی چیزوں کو ممنوع ٹہرانے کو غلط قرار دیتا ہے ؟

پڑھیے۔۔۔