لاعلاج مریض کی مصنوعی زندگی

کسی مریض کے بارے میں اگر یہ اندازہ ہو جائے کہ اس کا علاج ناممکن ہے ، تو اس صورت میں ہماری شریعت ہمیں کیا رہنمائی دیتی ہے؟ کیا جب تک اس کی طبعی موت واقع نہ ہو، اسے مصنوعی آلات کے ذریعے سے زندہ رکھا جائے یا دواؤں کے ذریعے سے از خود موت کے حوالے کر دیا جائے؟

پڑھیے۔۔۔

قرآنی آیات کے ذریعے بیماریوں

میں آٹھ سال کمر کی شدید تکلیف میں مبتلا رہا۔ اس سلسلے میں میں ایک بابا جی کے پاس گیا، انہوں نے مجھے قرآنی آیات پر مشتمل کچھ تعویذ دیے۔ کم و بیش دو ہفتوں میں میں کافی بہتر محسوس کرنے لگا۔ اب میں باقاعدہ ان کے پاس مختلف امراض کے سلسلے میں جاتا ہوں۔ دوسرے لوگ بھی اس کے مفید علاج سے مطمئن ہیں۔ وہ بابا جی کچھ آیات تلاوت کر کے دم کرتے ہیں اور تعویذ بھی دیتے ہیں جو کہ پانی میں ڈال کر کھائے جاتے ہیں۔ وہ بابا جی ایک تعویذ کے تقریباً ٥٠٠ روپے لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رقم میں خیرات میں دیتا ہوں۔ وہ اکثرا یسی بیماریوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو کہ جادو اور تعویذ کی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ لوگوں کا علاج کرنے کا انہیں خدا کی طرف سے مخصوص طریقہ سکھایا گیا ہے اور ان کے ہاتھ میں خدا نے شفا رکھی ہے۔ اس سلسلے میں میں آپ سے چند سوالات کے بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں۔

١۔ کیا کسی ایسے طبیب کے پاس اپنا مرض لے کر جانا چاہیے جو کہ قرآنی آیات کے ذریعے علاج کرتا ہو؟کیا اسے اس بات کی اجازت ہے۔؟

٢۔ کیا قرآنی آیات میں کوئی خاص ربط ہے جس کے ذریعے بیماریوں کا علاج کیا جا سکے؟ کیا اسم اعظم اور ناد علی میں کوئی خاص طاقت پوشیدہ ہے۔؟

٣۔ کیا ایسے حضرات دنیا میں موجود ہیں جو کہ خدا کی طرف سے اتنا بلند مرتبہ رکھتے ہیں کہ ان کے ہاتھوں میں شفا پائی جائے؟

٤۔ سلسلہ کیا ہوتا ہےـ؟ کچھ لوگ اپنے مخصوص پیر منتخب کر لیتے ہیں، کیا یہ اسلامی نظام ہے؟ ٥۔ کیا کوئی صوفی وفات کے بعد خواب میں آ کر انسان کی تربیت کر سکتے ہیں؟ کیا مردہ صوفیا کی ارواح انسانوں پر اثر انداز ہوتی ہیں؟

پڑھیے۔۔۔

وبائی امراض اور احادیث

کیا وبائی مرض کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث ہے۔ میں نے سنا ہے کہ حضور نے فرمایا تھا۔ جو آدمی وبائی مرض کے علاقے میں ہو وہ اس علاقے کو نہ چھوڑے اور جو اس مرض سے فوت ہوگا وہ شہید ہوگا۔ اس حدیث کی صحت کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ اس ضمن میں کچھ اور احادیث ہیں تو ان سے بھی آگاہ کیجیے۔

پڑھیے۔۔۔

بچوں کی بڑی بڑی بیماریوں کی وجہ

یہ بتائیے کہ بچوں پر بڑی بڑی بیماریاں جیسے بلڈ کینسر وغيرہ کیوں آتی ہیں۔ جب کسی بڑی عمر کے آدمی کو ایسی بیماری لگتی ہے تو ہم عموما یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے۔یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ آزمائش ہے۔چنانچہ جب یہ بڑی عمرکے آدمی کو ہو تو یہ تو عقلی(logical) لگتا ہے ۔ لیکن بچے کے بارے میں دل اس logic پر مطمئن نہیں ہوتا کہ والدین کی آزمائش ہے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اللہ انصاف کرنے میں سب سے بڑھ کر ہے ، تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ والدین کے گناہوں یا آزمائش کی سزا بچے کو ملے۔ اللہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمارے بچوں کو کیوں کر سزا دے سکتے ہیں۔ کیا آپ اس بات کا جواب دے سکتے ہیں۔ میں قرآن و سنت کی روشنی میں جواب حاصل کرنا چاہتاہوں۔ اور ایسے logic سے کہ جسے میں غیر مسلموں کو بھی سمجھا سکوں۔

پڑھیے۔۔۔