شرک کی دلیل

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری گئی، یہ بات ہندوؤں کی کتاب گیتا اور دیگر کتابوں ، وحدت الوجود کے تناظر میں خدا کو ماننے والوں پر کس طرح لاگو ہوتی ہے؟ کیا صرف عقلی دلیل کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ ـ"ما لم ينزل به سلطٰناً"؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیے۔

پڑھیے۔۔۔

مشرک کی تعریف

ہم نے ایک سوال مشرک کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق بھیجا تھا جس کا جواب ہم نے پڑھا، لیکن اس جواب سے ہمیں صحیح رہنمائی حاصل نہیں ہوئی کیوں کہ جناب ریحان احمد یوسفی صاحب نے شرک کے متعلق قرآنی آیات کو اہل مکہ رسول کے مخاطبین کے ساتھ خاص قرار دیا ہے۔ مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ موجودہ دور کے شرک کرنے والے لوگ مشرک نہیں کہلاتے مگر نماز کے سلسلے میں آپ کا بیان کردہ موقف شک کی بنیاد پر مبنی ہے اور عبادت کے لیے لازمی ہے کہ یہ شک سے پاک ہو۔ مزید یہ کہ شرک کے متعلق آیات میں کوئی مخصوصیات اور استثنا نہیں۔ اگر آپ کا موقف اس کے منافی ہے تو ان آیات پر عمل کرنے کی صورت کیا ہو گی؟ کیوں کہ آپ کا کہنا یہ ہے کہ ان آیات کے مخاطب وہ لوگ تھے جنھوں نے شرک کی حقیقت واضح ہونے کے بعد بھی شرک کو اپنائے رکھا۔ برائے مہربانی اس بات کی وضاحت بھی کریں کہ شرک کیا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

مشرک کے پیچھے نماز

میرا سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ دور میں شرک کرنے والے کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے؟ اگر پڑھی جا سکتی ہے تو قرآن کی ان آیات کا مفہوم کیا ہے جن میں ۱۸ انبیاء کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ اگر ان انبیاء سے شرک سرزد ہو جاتا تو ان کے تمام اعمال ضائع ہو جاتے؟ ایک اور جگہ محمدﷺ کا خصوصاً ذکر کرتے ہوئے ان سے خطاب کیا گیا ہے کہ اگر تم نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا تو تمھارے تمام اعمال ضائع کر دیے جائیں گے۔ اعمال میں سب سے پہلے نماز آتی ہے تو اگر کسی ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھی جائے تو کیا مقتدی کی نماز بھی ضائع ہو جائے گی جب کہ مقتدی کو معلوم ہو کہ امام کے عقیدے میں شرک واضح ہے؟ وہ قبر پرست ہو؟

پڑھیے۔۔۔