زکوٰۃ کے مصارف (غامدی صاحب کی رائے )۔

چند سوالات سے متعلق رہنمائی مطلوب ہے۔

١۔ زکوٰۃ کے مصارف کے وضاحت کیجیے اور اس معاملے میں غامدی صاحب کی رائے کا باقی علماء کی آراء سے جو اختلاف ہے اسے بھی واضح کیجیے۔

٢۔ غامدی صاحب نے میزان میں لکھا ہے کہ حکومت ایک چیز کے لیے زکوٰۃ کا الگ نصاب بھی مقرر کر سکتی ہے اور ایک چیز کو زکوٰۃ سے مثتثنیٰ بھی کر سکتی ہے۔ اس کی وضاحت کریں۔ مزید یہ جاننا چاہتا ہوں کہ زکوٰۃ اللہ تعالیٰ کا حق ہے تو پھر اس کو حکومت کیسے معاف کر سکتی ہے؟

٣۔ میرے ایک دوست نے بتایا کہ غامدی صاحب حکومت کے ٹیکس کو ناجائز قرار دیتے ہیں لیکن اگر حکومت زکوٰۃ کا نصاب خود متعین کر سکتی ہے تو پھر حکومت صاحب نصاب سے ١٠٠ روپے میں ٥٠ روپے زکوٰۃ بھی لے سکتی ہے، اور ٹیکس پر اعتراض غریب کی حد تک رہتا ہے کہ اس سے نہ لیا جائے اور باقی لوگوںسے لیا جائے۔

برائے مہربانی تفصیلی وضاحت فرمائیے۔

پڑھیے۔۔۔