لفظ کے معنی طے کرنے کا صحیح طریقہ

میرے خیال میں غلام احمد پرویز کی یہ بات درست ہے کہ :

''اعجاز قرآن لفظوں کے انتخاب میں چھپا ہوا ہے، یعنی یہ کہ خدا نے اپنی بات کہنے کے لیے فلاں لفظ ہی کیوں منتخب کیا ہے اور اُس لفظ کا خاص پس منظر کیا ہے، چنانچہ جب اس پس منظر کے حوالے سے بات واضح کی جاتی ہے تو تفسیر کے اس طریقے سے ہمارے اوپر حکمت قرآن کے دروازے کھلتے ہیں۔''

پرویز صاحب کے اس اتنے اچھے نقطہ نظر پر غامدی صاحب کی درج ذیل تنقید میری سمجھ میں نہیں آتی کہ:

''کسی عربی لفظ کے مادے کی تحقیق کا تعلق علم لسانیات سے ہے، یہ ایک دلچسپ موضوع تو ہے، لیکن قرآن فہمی سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔''

جبکہ میرے خیال میں پرویز صاحب نے اپنے اسی طریقے سے سورہ اخلاص کی جو تفسیر کی ہے، وہ طبیعت کو بہت متاثر کرتی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ پرویز صاحب کے طریق تفسیر میں آخر کیا غلطی ہے اور اس طریقے سے دوسرے علما قرآن کی تفسیر کیوں نہیں کرتے اور وہ لوگوں کو اس طریقے سے کیوں نہیں سمجھاتے؟

پڑھیے۔۔۔