کلمۂ توحید کا ستر ہزار مرتبہ ورد کرنا اور اُس کی حقیقت

کیا یہ بات درست ہے کہ جو شخص کلمۂ توحید " لا الٰہ الا اللہ ، محمد رسول اللہ " کا ستر ہزار مرتبہ ورد کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کے تمام گناہوں کی مغفرت کردی جاتی ہے ؟ اور اگر وہ شخص اپنے اِس ورد کو کسی مُردے کے لیے ایصال ثواب کردے تو یہ اُس میت کے لیے باعث مغفرت بن جاتا ہے ؟

پڑھیے۔۔۔

ایصالِ ثواب

مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا کسی شخص کی وفات کے بعد ا س کے لیے ایصالِ ثواب کیا جا سکتا ہے؟ میں نے یہ سنا ہے کہ جو انسان دنیا سے جاتا ہے وہ اپنے اعمال ساتھ لے کر جاتا ہے ، کوئی دوسرا ا س کے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔کوئی دوسرا اگر کچھ کرنا چاہے جیسے کوئی اپنے والدین کے لیے کچھ کرنا چاہے تو وہ کیا کر سکتا ہے؟

ہمارے جو رشتے دار فوت ہو جاتے ہیں ، کیا ہم درود پڑھ کر ، ختمِ قرآن کرا کر ، غریبوں اور محتاجوں کو کھانا کھلا کر اور صدقہ و خیرات کر کے اِن اعمال کا ثواب اُنہیں بھیج سکتے ہیں؟ کیا اُنہیں اِن کاموں کا ثواب پہنچتا ہے اور کیا اُن کی روح اس سے خوش ہوتی ہے اور کیا اس سے ان کے درجات بلند ہوتے اور گناہ معاف ہوتے ہیں؟

پڑھیے۔۔۔