كيا شيطان ملائكہ كی طرح اللہ تعالی كا قرب ركھتا تھا؟

ميں نے دنیا ٹی وی پروگرام ‘دين و دانش’ ديكھا۔ غامدی صاحب نے فرشتوں کے بارے میں بتایا كہ وہ بھی انسانوں کیطرح ارادہ اور اختیار رکھتے ہیں۔ میں نے تو سنا ہے کہ فرشتوں کی تخلیق کچھ اس طرح ہوئی ہے كہ وہ الله کی نا فرمانی کر ہی نہیں سکتے۔ اس پروگرام کے ميزبان نے غامدی صاحب سے سوال بھی کیا کہ اگر فرشتے اور انسان دونوں مخلوقات کے پاس ارادہ اور اختیار ہے تو انسان ہی غلطی کیوں کھا جاتا ہے؟ اس پر غامدی صاحب نے فرمایا کے فرشتوں کا معاملہ براہ راست الله کے ساتھ ہے جبکہ انسان کے ساتھ ایسا نہیں۔ اگر انسان بھی الله تعالی كے ساتھ بلاواسطہ رابطہ ميں ہوتا تو ممكن ہوتا كہ وہ بھی غلطی نہ کھاتا ہوتا۔ یہ بات بیان كرنے كا مقصد يہ ہے كہ ميرا سوال واضح ہو جائے۔ میرا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ايسا ہی ہے تو پھر شیطان سرکش کیوں ہوا جبكہ اس كا تعلق تو براہ راست الله كے ساتھ تھا ؟

پڑھیے۔۔۔