روشن خیال علماء کی تقليد

میں مذہبی علماء کی کچھ تحریریں پڑھ رہا تھا جس میں قرآن، حدیث اور دوسرے مباحث بھی تھے، تا کہ اسلام اور مسلمان کا تصور میری سمجھ میں آئے۔ ان تحریروں میں ایک تحریر جناب غلام احمد پرویز کی لکھی ہوئی ایک تحریر بھی بھی۔ مجھے کہا گیا کہ میں جناب مولانا صاحب کی کسی تحریر پر زیادہ غور نہ کروں کیوں کہ انہیں منکر حدیث قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن مجھے ان کی تحریروں کا مطالعہ کر کے لگا کہ ان کی کئی تحریریں قرآن کی کہی گئی باتوں کی کافی حد تک ترجمانی کرتی ہیں۔ برائے مہربانی یہ بتائیے کہ آپ کی ان کے بارے میں کیا رائے ہے جبکہ لوگ انہیں منکر حدیث کہتے ہیں اور ان کی تحریریں کافی روشن خیالی پر مبنی ہیں؟

پڑھیے۔۔۔