طلاق اور جہیز کی واپسی

ایک بیوی اپنی مرضی سے یہ ارادہ کر کے کہ وہ کبھی واپس نہیں آئے گی ، شوہر کا گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہے ، لیکن وہ یہ بات اپنے شوہر کو نہیں بتاتی۔ شوہر کا گھر چھوڑنے سے ایک سال پہلے سے ان کے درمیان کوئی ازدواجی تعلق نہیں تھا ، شوہر کا گھر چھوڑنے کے بعد وہ شوہر پر کیس جیتنے کے لیے بے بنیاد الزام لگاتی ہے۔ کچھ ہی ہفتوں میں شوہر کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اصل میں کسی دوسرے آدمی میں دل چسپی رکھتی تھی۔ یہ معاملہ شادی سے پہلے سے چل رہا تھا۔ وہ بیوی کو طلاق دے دیتا ہے۔ شوہر بیوی سے کہتا ہے کہ وہ زیورات کے علاوہ جہیز کا سارا سامان لے جا سکتی ہے۔ زیورات نہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے نہ گھر میں رہتے ہوئے اور نہ گھر سے جانے کے بعد بیوی والا رویہ اختیار کیا۔اس صورت حال میں کیا شوہر بیوی کو زیورات نہ دینے کا حق رکھتا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

نكاح اور مہر

ايك آدمی نے نكاح كرتےوقت مہر ادا نہ كرنے يا كم مہر دينے كی نيت دل ميں ركھی۔ اس نے ايك بڑی رقم بظاہر طے تو كرلی مگر صرف اس لئے كہ لڑكی مان جائے۔ اس شخص كا دعوی ہے كہ لڑكی ضد كر رہی تھی اور اس نے صرف نكاح كرنے كی غرض سے مطلوبہ رقم لكھ دی۔ ميرا سوال يہ ہے كيا يہ نكاح ہو گيا اگر وہ اب مہر ادا بھی كر دے؟ ميرا خيال يہ ہے كہ يہ نكاح نہيں ہوتا۔

پڑھیے۔۔۔