میڈیکل رپورٹ اور عدت کا تعین

آپ کے نزدیک اگر میڈیکل ٹیسٹ سے حمل کی صورت حال واضح ہوجائے تو عدت کی مدت کم ہو سکتی ہے۔ عرض یہ ہے کہ میڈیکل رپورٹ غلط بھی ہو سکتی ہے۔ چنانچہ بعد میں ہونے والے بچے کی ولدیت زیر بحث آسکتی ہے ، اس لیے نص میں بیان کردہ مدت ہی ملحوظ رکھنا درست لگتا ہے۔ اجتہاد کا دروازہ ضرور کھلا رہنا چاہیے ، لیکن اس حد تک نہیں کہ نص کے برعکس آرا قائم ہونے لگیں۔

پڑھیے۔۔۔

الٹرا ساؤنڈ سے بچےکی جنس معلوم کرنا

بچے کی پیدایش سے پہلے ا س کی جنس کے بارے میں جاننے کےلیے الٹرا ساؤنڈ کروانا کیا از روے اسلام قابلِ اعتراض بات ہے؟ (عمران شعیب)

پڑھیے۔۔۔