کیا جہنم کافروں کا ابدی ٹھکانہ نہیں ہے؟

جاوید احمد صاحب غامدی کی کتاب میزان کے باب ’ایمانیات‘ میں آخرت پر ایمان‘ والے حصے میں یہ لکھا ہوا ہے کہ جہنمی آخر کار یا تو جہنم میں جل کر خاک یا راکھ ہو جائیں گے یا پھر سب کو سزا دینے کے بعد جہنم کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ اس سلسلے میں ایک آیت کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں یہ بھی ہے کہ کافر جہنم میں رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں ۔ تو اس کا پھر کیا مطلب ہوا؟ اسی کتاب میں جنتی زندگی کو بار بار ابدی بتایا گیا ہے تو کیا دوزخیوں کی زندگی ابدی نہیں ہو گی؟

پڑھیے۔۔۔