جہاد اور نصرت الہی

ميرا سوال اس سے پہلے دئے گئے ايك جواب كے بارے ميں ہے جو آپ كی ويب سائٹ پوسٹ كيا گيا ہے: http://www.al-mawrid.org/pages/questions_urdu_detail.php?qid=1099&cid=478

اس جواب ميں بتايا گيا ہے ايك جنگ ميں مسلمانوں اور كفار كی حربی قوت كی نسبت ٣٣:١تھی۔ يہ بھی قرآن کے مطابق نہیں ہے۔ کیوں کہ قرآن کے مطابق خدا کی مدد تب نازل ہو گی جب نسبت ٢:اہوگی۔

اس پر يہ سوال بنتا ہے كہ کیا جب پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم موتہ کی جنگ پر گئے وہ اس قرآنی سورہ سے بے خبر تھے جس ميں مدرجہ بالا شرط بيان كی گئی ہے؟ کیوں کہ اگر وہ اس قرآنی سورہ سے باخبر ہوتے تو وہ جنگ لڑنے کے لیے اپنی طاقت کو ٢:١ بناتے۔ برائے مہربانی وضاحت کیجیے۔

پڑھیے۔۔۔