بینک کا منافع سود کیوں؟

نفع و نقصان میں شراکت کے تصور سے کی گئی سرمایہ کاری پر ملنے والا منافع اگر سود نہیں تو بینک میں جمع شدہ رقم پر ملنے والے منافع کو سود کیسے کہا جا سکتا ہے، جبکہ بینک کے دیوالیہ ہو جانے کا امکان ہوتا ہے اور ایسی صورت میں رقوم جمع کرانے والوں کو بینک کے ساتھ نقصان میں شریک ہونا پڑتا ہے۔ اسی طرح اگر بینک کے ڈپازٹ ایک خاص حد سے کم ہو جائیں، تب بھی اکاؤنٹ ہولڈرز کو کچھ گھاٹا اٹھانا پڑتا ہے۔ چنانچہ اس صورت میں یہ کیوں نہیں کہا جاسکتا کہ اکاؤنٹ ہولڈرز بینک کے نفع و نقصان میں شریک ہیں اور انھیں ملنے والا منافع سود نہیں ہے؟

پڑھیے۔۔۔

نفع و نقصان کی بنیاد پر سرمایہ لگانا

میرا سوال یہ ہے کہ کسی کے ساتھ کاروبار میں نجی طور پر پیسا ڈال کر نفع اور نقصان میں شریک ہونا اور منافع وصول کرنا اسلام میں جائز ہے یا نہیں؟ جناب پرویز صاحب اس کو بھی ربیٰ کی ہی ایک قسم کہتے ہیں۔ میں اس بارے میں غامدی صاحب کی رائے جاننا چاہتا ہوں۔ برائے مہربانی تفصیلی وضاحت فرمائیں۔

پڑھیے۔۔۔