سنت کی بنیاد

'نومولود کے دائیں کان میں اذان بائیں میں اقامت'کیسے سنت ہو گئی، جبکہ اس سے متعلق احادیث تو بہت ضعیف ہیں؟

پڑھیے۔۔۔

نو مولود کے کانوں میں اذان و اقامت کی شرعی حیثیت

دنیا بھر کے مسلم معاشروں میں بالعموم نومولود بچوں کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی جاتی ہے۔ جسے ایک مشروع دینی عمل اور بچوں کی پیدایش کے موقع پر منجملہ اعمال مسنونہ قرار دیا جاتا ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ اِس عمل کی دینی حیثیت کیا ہے ؟ دین میں اِس کے ثبوت کا ماخذ کیا ہے؟ کیا محققانہ نقطۂ نگاہ سے یہ بات واقعتاً پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس عمل کو ایک شرعی حکم کے طور پر اپنے ماننے والوں میں جاری فرمایا ہے ؟ کیا اِس کی حیثیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جاری کردہ ایک متفق علیہ سنت کی ہے یا اِس کا ماخذ آپ سے مروی کوئی خبر واحد ہے ؟ اِس باب میں مروی اخبار آحاد کے بارے میں محقق رائے کیا ہے ؟ کیا دین میں اِس کی مشروعیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے ؟ کیا تمام فقہا و محدثین اس کے حکم کے بارے میں باہم متفق ہیں یا اُن کے ما بین اِس مسئلے پر کچھ اختلافات بھی پائے جاتے ہیں؟

پڑھیے۔۔۔