وراثت کی تقسیم

سوال1:

باپ فوت ہوجاتا ہے۔ فرض کیجیے اس کی چالیس کنال اراضی ہے۔ اور اس کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ یہ اراضی کیسے تقسیم ہوگی۔ مجھے شرح اور رقبہ بھی کنالوں کو متعین کرکے بتائیے۔

سوال2:

باپ فوت ہوجاتا ہے۔ فرض کیجیے اس کی چالیس کنال اراضی ہے۔ اور اس کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔ یہ اراضی کیسے تقسیم ہوگی۔ مجھے شرح اور رقبہ بھی کنالوں کو متعین کرکے بتائیے۔

پڑھیے۔۔۔

یتیم پوتوں کی وراثت

جو بیٹا والد کی موجودگی میں فوت ہو جائے کیا اس کی بیوہ اور اولاد وراثت کی حق دار ہے ؟

پڑھیے۔۔۔

باقي بچنے والا ترکہ کس کو ديا جائے گا؟

اگر متوفي کي صرف بيٹياں ہوں اور وراثت کا دو تہا‎‎ئی قرآن کي روسے انھيں مل جاۓ ئے تو باقي بچنے والا ترکہ کس کو ديا جائے گا؟

پڑھیے۔۔۔

ترکے کی تقسیم

درج ذیل سوالات کے جواب عنایت فرمائیے

١۔ مرحوم بیٹے کے ورثہ کی تقسیم جبکہ اس کے والدین، بیوی اور بچے زندہ ہوں۔

٢۔ مرحوم بیٹے کے ورثہ کی تقسیم جبکہ اس کی ماں بیوی اور بچے زندہ ہوں۔

٣۔بیوی کے ورثہ کی تقسیم جبکہ اس کا شوہر اور بچے زندہ ہوں۔

پڑھیے۔۔۔

تقسیمِ میراث سے متعلق ایک سوال

پچھلے دنوں میرے ایک عزیز کی وفات ہوئی ہے،جن کے پسماندگان میں والدین،ایک بیوی،ایک بیٹا،ایک بیٹی،ایک بہن اور ایک بھائی ہے۔ متوفٰی کے اہل خانہ اُن ترکے کی شرعی تقسیم کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ برائے کرم قرآن مجید کی روشنی جواب عنایت فرمائیں۔

پڑھیے۔۔۔

اسلاف کا فہم اور اسلام میں اجماع کی حیثیت

قرآن بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے۔ ا س کے بعد اگر یہ مان لیا جائے کہ کسی معاملے میں تمام فقہا کی رائے یا صدیوں سے رائج کوئی نقطۂ نظر بھی غلط ہو سکتا ہے جیسے وراثت کے احکام اور شہادت کے نصاب کے بارے میں فقہا کی رائے کو نادرست قرار دیا جاتا ہے ، تو پھر ہم کس طرح یہ کہنے کے قابل رہتے ہیں کہ اسلام تمام زمانوں میں محفوظ رہا ہے؟ نیز اسلام میں اجماع کی کیا حیثیت ہے ؟

پڑھیے۔۔۔

وراثت کی تقسیم میں تاخیر اور اپنا حصہ کسی کو ہبہ کرنا

ذیل کی دو صورتوں میں اسلام کا مؤقف بتائیے :

1) والدین کے فوت ہوجانے کے بعد بڑ ے بہن بھائی اگر وراثت کی تقسیم میں ٹال مٹول سے کام لیں اور اس معاملے کو مؤخر کرتے رہیں ، تو اسلام انہیں کس نظر سے دیکھتا ہے؟

2) تقسیمِ وراثت کے موقع پر اگر بڑ ی بہن بڑ ے بھائی کا ساتھ دے اس طرح کہ پہلے تقسیم کو مؤخر کرنے میں ان کی ہاں میں ہاں ملائے اور تقسیم کے موقع پر اپنا حصہ اسے دے دے ، حالاں کہ وہ جانتی ہے کہ بڑ ا بھائی ا س کا ضرورت مند نہیں ہے ، تو ازروئے اسلام یہ طرزِعمل کیسا ہے؟

پڑھیے۔۔۔