تمام دنیا کی اقوام کے لیے ہدایت کا اہتمام

اللہ نے سارے جہاں میں پیغمبر بھیجے، ٹھیک ہے؟ تو بتائيں افریقہ میں جو ننگے جنگلی دریافت ہوئے ہیں وہاں ان کے درمیان پیغمبر کون تھے۔ امریکا ، آسٹریلیا ، سائبیریا اور مشرق بعید میں کون تھے۔اگر کسی کے پاس ان کا حتمی جواب نہیں ہے تو کیوں۔ قرآن میں وضاحت ہے تو بتائیں اور اگر نہیں تو کیوں نہیں۔بنی اسرائیل کی طرح صرف خطہ عرب کو پیغمبر کی ضرورت تھی۔کیا یہ عربی کی عجمی پر فوقیت کے مترادف نہیں۔

یہ سوال ایک طالب علم کا ہے۔ مجھےاپنے علم کی کمی کو پورا کرنا مقصود ہےاور کچھ نہیں۔نہ برا مانیے گا۔ نہ مجھ پر کوئی فتوی لگائیے گا۔سمجھنے کی کوشش کیجیے اور سمجھانے کے لیے جواب دیجیے۔

پڑھیے۔۔۔

سورہ یاسین

میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ سورہ یاسین میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے کہ اللہ نے ایک ملک میں دو پیغمبر بھیجے تھے لیکن وہاں کے لوگوں نے انہیں جھٹلایا۔ پھر اللہ نے ایک اور پیغمبر بھیجا۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ وہ کون سا ملک تھا؟

پڑھیے۔۔۔

نبوت کا دعویٰ

میرا سوال یہ ہے کہ کیا خاتم النبیّین حضرت محمد صلی اللہ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا شریعت میں جرم نہیں ہے؟ اگر ہے تو پھر غامدی صاحب کا رویہ احمدی فرقے والوں کے لیے نرم کیوں ہے؟ اور اگر جرم نہیں ہے تو پھر حضرت ابوبکرؓ نے مسیلمہ کذاب کے خلاف احتجاج کیوں کیا؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے۔

پڑھیے۔۔۔

پیغمبر کے علاوہ وحی

کیا پیغمبر کے علاوہ بھی وحی آسکتی ہے۔ یا اس کی کوئی صورت نبی بنے بغیر کسی آدمی کو پیش آسکتی ہے۔

پڑھیے۔۔۔

حضرت نوح علیہ السلام کی عمر پر اشکال

قرآن مجید میں آتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال دعوت وتبلیغ کا کام کیا۔ اب تک میرا خیال تھا کہ انسان کی اوسط زندگی اور قد کاٹھ ایک جیسا ہی ہے۔ دوچار انچ یا پانچ دس سال کا فرق تو سمجھ میں آتا ہے ۔ لیکن روایات میں جس طرح عوج بن عنق کے قد کاٹھ کے بارے میں جس طرح مبالغہ آرائی پائی جاتی ہے وہ حقیقت نظر نہیں آتی۔ چونکہ ان کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے اس لیے ہم آسانی سے اس کی تردید کر سکتے ہیں۔ لیکن حضرت نوح علیہ السلام کی ساڑھے نو سو سال تبلیغ کا ذکر قرآن مجید میں ہے جس کو ہم کسی قیمت نہیں جھٹلا سکتے۔ کیا حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے تمام افراد کی عمریں اتنی ہی تھیں؟ اس قوم کے قد کاٹھ ہمارے جیسے تھے یا ان کی نوعیت کچھ اور تھی۔ مجھے یاد پڑتاہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کا زمانہ اب سے چار پانچ ہزار سال پہلے بتاتے ہیں۔ چار پانچ ہزار سال انسانی تاریخ میں کوئی معنی نہیں رکھتے۔ یہ بات کسی طور سمجھ میں نہیں آتی کہ صرف چار ہزار سال پہلے کسی کی عمر ہزار سال ہو۔ قرآن سے کسی اور پیغمبر کے بارے میں اس طرح کی بات معلوم نہیں ہوتی۔

پڑھیے۔۔۔

آزمایش اور بلند مراتب روایت اشد الناس بلاء الانبیاء ۔۔۔ کی روشنی میں

مفتی شفیع صاحب سورۂ انبیاء کی تفسیر میں حضرت ایوب علیہ السلام کے قصے کے ذیل میں ایک روایت نقل کرتے ہیں: اشد الناس بلاء الانبياء ثم الصالحون ثم الامثل فالامثل۔ سوال یہ ہے کہ جس مؤمن پر سخت آزمایش نہیں آتی اس کا مقام اللہ کے نزدیک بہت چھوٹا ہے؟ وضاحت فرمادیں۔

پڑھیے۔۔۔

آزمایش اور بلند مراتب روایت اشد الناس بلاء الانبیاء ۔۔۔ کی روشنی میں

مفتی شفیع صاحب سورۂ انبیاء کی تفسیر میں حضرت ایوب علیہ السلام کے قصے کے ذیل میں ایک روایت نقل کرتے ہیں: اشد الناس بلاء الانبياء ثم الصالحون ثم الامثل فالامثل۔ سوال یہ ہے کہ جس مؤمن پر سخت آزمایش نہیں آتی اس کا مقام اللہ کے نزدیک بہت چھوٹا ہے؟ وضاحت فرمادیں۔

پڑھیے۔۔۔