شعور اور برائی

اگر اللہ تعالیٰ نے انسان کو نیکی اور بدی، دونوں کا شعور دیا ہے تو پھر اس شعور کے ہونے کے باوجود انسان برائی کے راستے پر کیسے چل پڑتا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

مجبوری کی وجہ سے غلط کام کا ارتکاب

انسان کو زندگی میں اگر کسی وقت حالات اس قدر مجبور کر دیں کہ صحیح بات کو جاننے کے باوجود غلط بات کو اختیار کرنا اس کی مجبوری بن جائے تو اس صورت حال میں اسے کیا کرنا چاہیے؟

پڑھیے۔۔۔

کبیرہ گناہوں کی معافی

سنگین گناہ کی معافی کب تک مانگنی چاہیے، کیا کبیرہ گناہوں کی معافی تمام عمر مانگتے رہنا چاہیے، اور یہ کب اور کیسے معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا ہے ؟

پڑھیے۔۔۔

بارش کا نہ ہونا

بارش نہ ہونے کی اصل وجہ کیا ہو سکتی ہے؟

پڑھیے۔۔۔

سزا کا نفاذ

جرم کی سزا پانے کے لیے آدمی کس سے رابطہ کرے تاکہ وہ اس پر سزا نافذ کر دے؟

پڑھیے۔۔۔

سزا کا نفاذ

جرم کی سزا پانے کے لیے آدمی کس سے رابطہ کرے تاکہ وہ اس پر سزا نافذ کر دے؟

پڑھیے۔۔۔

جرم اور گناہ میں فرق

جرم اور گناہ میں کیا فرق ہے؟ دونوں میں کیا اشتراک ہے اور کیا اختلاف ہے؟

پڑھیے۔۔۔

کھانا کھاتے وقت سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا

کیا کھانا کھاتے وقت کسی کو سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا گناہ یا بری بات ہے؟

پڑھیے۔۔۔

کیا سنت پر عمل نہ کرنا گناہ ہے؟

سنت کیا ہے؟ کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی بات کہی وہ سنت ہے؟ جو کام بھی کیا وہ سنت ہے؟ کیا سنت دین کا حصہ ہے؟ سنت کا کیا معنی ہے؟ کیا سنت پر عمل نہ کرنا گناہ ہے؟

برائے مہربانی تفصیلی وضاحت فرمائیں۔

پڑھیے۔۔۔

کفر اور شرک

میرا سوال المورد ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک جواب سے متعلق ہے جس کا لنک یہ ہے:

http://www.al-mawrid.org/pages/questions_english_detail.php?qid=900&cid=51

اس جواب میں کہا گیا ہے کہ کفر ایک رویہ ہے جو لوگوں کے کسی بھی گروہ پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اور ایک شخص، اگرچہ وہ کافر ہو یا نہ ہو مشرک ہو سکتا ہے۔ سورہ بیّنہ (۹۸) کی پہلی آیت کے مطابق، "اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنہوں نے (قرآن کا) انکار کیا وہ اپنی ہٹ سے باز آنے والے نہیں ہیں، یہاں تک کہ ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں آ جائیں۔" اسی سورہ کی آیت ۶ میں کہا گیا ہے کہ "بے شک اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنہوں نے کفر کیا وہ دوزخ کی آگ میں پڑیں گے، اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے، یہی لوگ بدترین خلائق ہیں۔" جب میں ان آیات کا بغور مطالعہ کرتا ہوں تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے قرآن کو جھٹلایا اور اسلام قبول کیا اصل میں انہوں نے قرآن کو جھٹلایا نہیں بلکہ اسے مانا۔ تو اس آیت میں یہ کیوں کہا گیا ہے کہ جنہوں نے قرآن کو جھٹلایا نہیں وہ پھر بھی مشرکین اور اور اہل کتاب ہیں لیکن کافر نہیں ہیں؟َ برائے مہربانی وضاحت فرمائیے۔

میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اگر کسی مسلمان نے کسی دوسرے مسلمان کو قتل کیا وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ تو کیا اگر وہ کسی غیر مسلم کو قتل کرے پھر بھی وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا؟

نمبر ۳ یہ کہ قرآن و حدیث کے حوالہ کےساتھ یہ بھی بتائیں کہ وہ کون سا گناہ ہے جس کی پاداش میں انسان ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائیگا؟

اور نمبر ۴ یہ کہ کیا گناہ چھوٹا ہو یا بڑا سب کی سزا ایک جیسی ہو گی؟

برائے مہربانی تفصیلی وضاحت فرمائیں۔

پڑھیے۔۔۔

لفظ لمم کا مصداق

سورۂ نجم کی آیت 32 میں ارشاد ہے کہ ’’یہ وہ لوگ ہیں کہ جو بڑ ے بڑ ے گنا ہوں سے بچتے ہیں لیکن کچھ چھوٹے چھوٹے گنا ہوں کے سوا‘‘۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے گناہ کون سے ہیں اور کیا اس سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ ٹی وی اور کیبل دیکھنا اور کسی لڑ کی کو چھونا اور اس کے ساتھ رہنا چھوٹے چھوٹے گناہ ہیں جب تک کہ بڑا گناہ زنا نہ کیا جائے ۔اور اگر زنا کو چھوڑ تے ہوئے ان کا ارتکاب کر بھی لیا جائے تو ایسے شخص کے ساتھ آخرت میں ہلکا مواخذہ کیا جائے گا؟ نیز اس آیت میں ’لمم‘ کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟

پڑھیے۔۔۔

کیا توبہ گناہوں کو مٹا دیتی ہے؟

قرآن و حدیث کے مطابق اس شخص کا معاملہ کیا ہو گا جو کوئی گناہ کر بیٹھے لیکن پھر اس پر نادم و شرمسار ہو کر اللہ سے سچی توبہ کرے ؟ کیا اللہ ایسے شخص کو معاف کر دے گا ؟اور کیا روزِ قیامت اس شخص کے نامۂ اعمال میں وہ گناہ شامل ہو گا یا اسے مٹادیا جائے گا؟

پڑھیے۔۔۔

حج کے بعد گناہ کبیرہ اور توبہ

حج ہمارے دین میں چند بنیادی فرائض میں سے ہے ۔کسی بھی مسلمان کے لئے حج کرنا ایک بڑ ی سعادت کی بات ہے ، صرف وہی لوگ یہ سعادت حاصل کرپاتے ہیں جنہیں خدا کی طرف سے اس کی توفیق ملتی ہے۔ دعا ہے کہ خدا ہر مسلمان کو اس کی توفیق عطا فرمائے ، آمین۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک شخص حج پر جاتا ہے اور واپس آ کر گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے ساتھ کیا معاملہ ہو گا؟ کیا ایسے گناہگار کو اللہ تعالیٰ معاف کریں گے اگر وہ اپنے گنا ہوں کی معافی مانگے ؟ ایسے انسان کا آخر کیا ہو گا؟ جس طرح عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ حج سے واپس آ کر اگر ایک شخص کی زندگی میں تبدیلی آ جاتی ہے چاہے زیادہ یا کم تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا حج مقبول ہو گیا ہے ۔ کیا اس بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسے شخص کا حج قبول نہیں ہوا؟ براہِ مہربانی اس مسئلے پر کچھ روشنی ڈالئے اور جلد ہمیں اس بارے میں صحیح نقطۂ نظر سے آگاہ کیجیے۔

پڑھیے۔۔۔