استمنا باليد اور رضاعت

ميرا پہلا سوال يہ ہے كہ جوانی ميں انسان غلط كام كر جاتا ہے اور ميں نے بھی كئے ہيں۔ میں نے لڑکیوں سے دوستی وغيرہ كی ہے۔ لیکن اللہ تعالٰی نے ہدایت دی۔ اب میں اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہوں اور ان سب چيزوں سے توبہ کر لی ہے۔ اس وقت ميں استمنا باليد كے بارے ميں جاننا چاہتا ہوں۔ کیا یہ گناہ کبیرہ ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں زنا سے بچنے کے لیے يہ كام كيا جا سكتا ہے۔ ايسا كر كے لوگ گناہ سے بچ جاتے ہیں۔

ميرا دوسسرا سوال يہ ہے كہ میرا دوست چھوٹا سا تھا اور ہسپتال میں تھا۔ جب وہ پیدا ہوا تو کچھ وجوہات کی بنا پر اس کی ماں کو اس سے دور ہونا پڑا۔ اس کی زندگی کو خطرہ تھا۔تب اس کی بڑی پھوپھی نے اسے اپنا دودھ پلا دیا۔ انھوں نے اپنے شوہر سے اجازت بھی نہیں لی تھی اور ایسا صرف ایک بار ہی ہوا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اپنی پھوپھو کی اس بیٹی سے وہ بہت پیار کرتا ہے اور بچپن سے کرتا آ رہا ہے۔ کیا ان کی شادی جائز ہے؟

پڑھیے۔۔۔

لفظ لمم کا مصداق

سورۂ نجم کی آیت 32 میں ارشاد ہے کہ ’’یہ وہ لوگ ہیں کہ جو بڑ ے بڑ ے گنا ہوں سے بچتے ہیں لیکن کچھ چھوٹے چھوٹے گنا ہوں کے سوا‘‘۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے گناہ کون سے ہیں اور کیا اس سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ ٹی وی اور کیبل دیکھنا اور کسی لڑ کی کو چھونا اور اس کے ساتھ رہنا چھوٹے چھوٹے گناہ ہیں جب تک کہ بڑا گناہ زنا نہ کیا جائے ۔اور اگر زنا کو چھوڑ تے ہوئے ان کا ارتکاب کر بھی لیا جائے تو ایسے شخص کے ساتھ آخرت میں ہلکا مواخذہ کیا جائے گا؟ نیز اس آیت میں ’لمم‘ کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟

پڑھیے۔۔۔