مسیحیوں کی یہود پر برتری

سورۂ آل عمران کی آیت ۵۵میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے فرمایا ہے کہ اے عیسیٰ میں تیرے ماننے والوں کو قیامت تک کے لیے ان لوگوں پر بالادست رکھوں گا جنھوں نے تیرا انکار کیا ہے۔ ایک طرف تو حضرت عیسیٰ کے ماننے والے یعنی مسیحی قیامت تک غالب رہیں اور دوسری طرف اسلام بھی قیامت تک کے لیے ہے۔ اس کی وضاحت کر دیں۔

پڑھیے۔۔۔

یہود و نصاریٰ کے لیے دعا کرنا

درود ابراہیمی پڑھتے ہوئے ہم 'آل ابراهيم' کے الفاظ ادا کرتے ہیں ، جس سے یہ یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے بھی دعا بن جاتی ہے ، اس لحاظ سے درود ابراہیمی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

یہود کی دیدارالٰہی کی خواہش

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود نے حضرت موسیٰ سے اللہ کو دیکھنے کی فرمایش کی، یہ فرمایش انھوں نے کیوں کی؟

پڑھیے۔۔۔

سلطنت اسرائیل اور یہود سے متعلق قرآن کی پیشین گوئی

باوجود اس کے کہ یہودیوں کو قرآن میں ملعون و مغضوب قرار دے دیا گیا ہے اور کہہ دیا گیا ہے کہ یہ جہاں کہیں بھی ہوں، ان پر ذلت کی مار ہے۔ قرآن کے اس فرمان کی صداقت مسلم، مگر ذرا سی کھٹک یہ پیدا ہوتی ہے کہ یہ غالب کیوں آگئے اور فلسطین کی ریاست کے قیام کی بنا پر عرب و عجم پر ان کا سکہ کیوں چلنے لگا کہ آج پورا عرب شاید ہی ان کے مقابلے میں آسکے۔ آل عمران (۳) کی آیات ۱۱۱ اور ۱۱۲ میرے پیش نظر ہیں۔ یہاں یہ فقرہ بھی موجود ہے: ’’ان پر محتاجی و مفلوکی مسلط کر دی گئی ہے‘‘۔

پڑھیے۔۔۔