یہودیوں کا فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہنا

کیا وجہ ہے کہ یہودی فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے؟

پڑھیے۔۔۔

قرآن میں اہل کتاب کی تحسین کی وجہ

سورہ آل عمران میں اہل کتاب کے بعض افراد کے بارے میں تحسین اور تعریف کے کچھ کلمات ہیں اور ان کے ایمان دار ہونے کا ذکر موجود ہے، مثلاً

 'یَتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ'،'یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ' اور 'اُولٰۤئِکَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ'۔ 

کیا قرآن مجید کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان نہ لانے کے باوجود صالح اور مومن ہی قرار دیے جا رہے ہیں؟

کیا ان کا یہ مومن اور صالح ہونا صرف عنداللہ ہے، یعنی آخرت کے حوالے سے ہے یا پھر دنیوی قانون کے لحاظ سے بھی وہ مومن اور صالح ہی متصور ہوں گے؟

اگر وہ دنیوی پہلو سے بھی مومن ہی ہوں گے تو پھر کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے، اس کے اخلاقی حدود و قیود کو مانتا ہے اور اللہ کے پیغمبروں میں سے کسی ایک کو بھی مانتا ہے تو وہ شخص مومن ہو گا؟جیسا کہ سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کی درج ذیل آیات سے یہ بات ثابت بھی ہوتی ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَادُوْا وَالنَّصٰرٰی وَالصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ.(٢:٦٢)
قُلْ یٰۤاَہْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْۤا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اَلاَّ نَعْبُدَ اِلاَّ اللّٰہَ وَلاَ نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا وَّلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْہَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ.(٣:٦٤)
پڑھیے۔۔۔

فاقتلوا انفسكم سے مراد

سورہ بقرہ میں بنی اسرائیل کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ 

'فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَکُمْ'

 (اپنے نفسوں کو قتل کرو)

ا س حکم کا کیا مطلب ہے؟

١۔ کیا اس سے خود کشی مراد ہے؟

٢۔ ایک دوسرے کو قتل کرنا مراد ہے؟

٣۔ نفس امارہ کو قتل کرنا، یعنی مجاہدہ نفس کرنا مراد ہے؟

حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس حکم کے بعد اسی سورہ کی اگلی آیات میں بنی اسرائیل پر یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ

 'ثُمَّ اَنْتُمْ ہٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَکُمْ وَتُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْکُمْ' 
(پھر یہ تمھی لوگ ہو جو اپنوں کو قتل کرتے ہو اور اپنے ہی ایک گروہ کو ان کی بستیوں سے نکالتے ہو)، 

اس تضاد کی کیا وضاحت ہے؟

پڑھیے۔۔۔

ايمان بالرسالت كی ضرورت

سورہ بقرہ کی آیت ٦٢ اور سورہ مائدہ کی آیت ٦٩ جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمان، عیسائی ، یہودی اور صابی جو بھی اللہ پر ایمان رکھے گا، یوم حساب سے ڈرے گا اور نیک کام کرے گا، اس کے لیے اس کے رب کے پاس اجر ہو گا اور وہ ایسی زندگی میں ہو گا جس میں نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ کوئی غم، ان آیات سے کیا مراد ہے؟ کیا یہود و نصاریٰ اور صابئین یا کسی بھی غیر مسلم کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے؟

پڑھیے۔۔۔

رسولوں پر ایمان اور نجات بحوالہ سورۂ بقرہ آیت 62

بعض لوگ کہتے ہیں کہ سورۂ بقرہ کی ایک آیت کے مطابق رسولوں پر ایمان لائے بغیر جنت میں جانا ممکن ہے ۔ کیایہ بات درست ہے؟

پڑھیے۔۔۔