امت کا تہتر فرقوں میں تقسیم ہونا اور نظم اجتماعی کی پیروی

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ

 یہود 71 فرقوں میں تقسیم ہوئے، عیسائی 72 فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے اور میری امت تہتر(73) فرقوں میں تقسیم ہو گی، ان میں سے ایک کے سوا سب کے سب فرقے جہنمی ہوں گے اور وہ ناجی فرقہ ،وہ ہو گا جو میرے اور میرے صحابہ کی راہ پر ہو گا۔

 اس حدیث کا مطلب کیا ہے۔


آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ

 تم جماعت المسلمین اور ان کے امام کے ساتھ جڑ کر رہو،

 اس کا کیا مطلب ہے؟کیونکہ آج کل جتنے فرقے بھی موجود ہیں ان میں سے ہر ایک اپنے آپ کو صحیح قرار دیتا ہے، لہٰذا یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آدمی کس کا ساتھ دے اور کس کا نہ دے؟

پڑھیے۔۔۔