عمل صحابہ

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا اجماع امت سے اختلاف کرنے والا امت سے خارج ہو جاتا ہے؟ مزید یہ کہ کیا صحابہ کا کوئی عمل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے مختلف بھی تھا جیسا کہ مولا سرفراز صفدر خان نے اپنی کتاب راہ سنت میں لکھا ہے؟ برائے مہربانی تفصیلی وضاحت فرمائیں۔

پڑھیے۔۔۔

صحابۂ کرام کا رول

مجھے صحابۂ کرام کے حوالے سے کچھ Confusion لاحق ہو گیا ہے ، جس کے سلسلے میں آپ سے وضاحت درکار ہے۔ ہوا یوں کہ ایک پروگرام میں جب ڈاکٹر ذا کر نائک سے یزید اور جنگِ کربلا کے بارے میں سوال کیا گیا، تو اُنہوں نے یزید کے لیے رضی اللہ عنہ کے الفاظ استعمال کیے اور جنگِ کربلا کو ایک سیاسی لڑ ائی قرار دیا۔مجھے یہ سن کر بہت جھٹکا لگا کیونکہ ہم بچپن سے یہ سنتے آ رہے ہیں کہ یزید ایک ملعون اور ظالم شخص تھا اور کربلا کا واقعہ حق و باطل کی ایک جنگ تھی۔مسلم کمیونٹی میں بھی اس بات پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور ڈاکٹر ذا کر نائک کے بارے میں کہا جانے لگا کہ وہ اگرچہ ’تقابلِ ادیان‘ کے موضوع کے ایک اچھے طالبعلم ہیں لیکن وہ اسلام کے ایک اچھے اور بڑ ے ا سکالر نہیں ہیں۔ میں نے خود بھی یہی محسوس کیا، لیکن پھر مجھے خیال ہوا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص ’تقابلِ ادیان‘ کے موضوع پر تو سند کا درجہ رکھتا ہو، لیکن اپنے مذہب سے اچھی طرح واقف نہ ہو ، اس طرح میرا کنفیوژن کافی بڑ ھ گیا اور میں نے ذاتی طور پر اس ٹاپک پر تحقیقی مطالعہ کا ذہن بنایا۔ اس سلسلے میں میں نے اس موضوع پر مختلف نقطۂ نظر سے لکھی گئی کافی کتابیں پڑ ھ ڈالیں۔ سب سے پہلے کسی کے بتانے پر میں نے مولانا مودودی کی کتاب ’خلافت و ملوکیت‘ کا مطالعہ کیا ، جس میں یہ تأثر دیا گیا تھا کہ حضرت امیر معاویہ اور یزید ایک ہی سطح و مزاج کے لوگ تھے اور دونوں ہی کی وجہ سے اسلام اور اہلِ اسلام کو نقصانات پہنچے ، جبکہ حضرت علی اور امام حسین نے اسلام کا دفاع کیا۔ا س کے بعد کسی کے بتانے پر میں نے محمود احمد عباسی کی کتاب ’خلافتِ معاویہ و یزید‘ دیکھی ، جس کے پڑھنے کے بعد تأثر یہ بنا کہ حضرت معاویہ نے تو اصل میں اسلام کا دفاع کیا اور یزید بھی ایک ۔۔۔۔۔۔۔ شخص تھا۔جبکہ حضرت علی اور امام حسین کا مؤقف صحیح نہیں تھا۔میری پریشانی اور کنفیوژن دگنی ہوگئی۔ پہلے مجھے امیر معاویہ اور یزید کے بارے میں شکوک لاحق ہوئے تھے تو اب میں حضرت علی اور امام حسین کے بارے میں شبہات میں مبتلا ہو گیا تھا۔ اسی دوران ایک نیا مسئلہ یہ سامنے آیا کہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے حضرت علی کے حوالے سے الکوحل کی ممانعت پر مشتمل ایک روایت بیان کی تو اُس پر بھی مسلمان کمیونٹی اُن کے خلاف بھڑ ک اٹھی۔اس موضوع پر میں نے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے لیکچرز بھی سنے ، پریشانی مزید بڑ ھ گئی کیونکہ انہوں نے تو حضرت علی کو ایک ما فوق الفطرت ہستی کی حیثیت سے پیش کیا اور ا س کے دلائل بیان کیے تھے۔ ان سب باتوں نے مل کر مجھے تو بہت ہی کنفیوژ کر دیا ہے اور میں صحابۂ کرام کے حوالے سے عجیب قسم کی پریشانی اور بے اطمینانی میں مبتلا ہو گیا ہوں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط؟ کس کی اقتدا کی جائے اور کس کی نہیں؟ کس کے مؤقف کو درست سمجھا جائے اور کس کے مؤقف کو نا درست؟ لہٰذا براہِ مہربانی اس سلسلے میں میری رہنمائی کر دیجیے؟

پڑھیے۔۔۔