ڈپريشن ميں طلاق دينا

ميرے شوہر ڈپريشن کے مريض ہيں۔ انھوں نے مجھ سے جھگڑتے ہوئے ميرے مطالبے پر تين بار طلاق کے الفاظ ادا کر ديے۔ اس کے بعد انھوں نے رجوع کر ليا اور مجھے يہ بتايا کہ انہوں نے طلاق کے الفاظ ارادۃً ادا ہي نہيں کيے تھے، بلکہ صرف مجھے ڈرانے کے ليے يہ الفاظ بولے تھے اور ان کے علم کے مطابق قرآن مجيد کے نزديک اس طرح سے طلاق واقع نہيں ہوتي۔ پھر جب بعض علما سے رجوع کيا گيا تو انھوں نے يہ فتوي ديا ہے کہ اس صورت ميں ايک طلاق واقع ہو چکي ہے۔ طلاق کے اس واقعے کو گزرے چار سال ہو چکے ہيں۔ ميں اس کے بارے ميں غامدي صاحب کي رائے جاننا چاہتي ہوں۔

پڑھیے۔۔۔