سود اور افراط زر

بینک میں جمع کرائی ہوئی رقم کی قیمت افراط زر کی وجہ سے وقت کے ساتھ کم ہوتی چلی جاتی ہے، لہٰذا کیا بینک سے حاصل ہونے والا سود اس صورت میں بھی حرام ہوتا ہے؟

پڑھیے۔۔۔

بینک کا سود

سود یا ربا جسے اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے اس سے کیا مراد ہے؟ آیا اس سے وہ 'interest' مراد ہے جو بینک رقوم جمع کرانے والوں کو ادا کرتا ہے یا اس سے وہ 'usuary' مراد ہے جسے سود مرکب یا حد سے زیادہ شرح والا سود کہا جاتا ہے۔ بینک جو سود ادا کرتا ہے ،وہ تو بہ مشکل 'inflation' کی اس اوسط شرح کے بقدر ہوتا ہے جس سے ہمارا روپیہ 'devalue' ہو رہا ہے۔ ایسی صورت میں اس کے حرام ہونے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ،کیونکہ 'interest' کی وہ رقم بے شک گنتی میں نوٹوں کی تعداد تو بڑھا دیتی ہے، لیکن درحقیقت وہ ہمارے اصل اثاثے کو 'value' کے اعتبار سے برقرار رکھنے کے سوا ہمیں کوئی اور فائدہ نہیں دیتی۔ جبکہ سود مرکب اور زیادہ شرح والے سود کا معاملہ واقعۃً ایک ظلم ہے۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک یہ اضافہ جو 'inflation' کی شرح کے بقدر ہوتا ہے اور جس سے دولت کی'value' میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا، کیا وہ بھی حرام ہے؟

پڑھیے۔۔۔