تعمیر کعبہ

میں ایک حدیث سے متعلق آپ کی رہنمائی چاہتا ہوں۔ "پیغمبر نوح علیہ السلام نے بھی بیت اللہ کا حج کیا"۔ یہ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے جو کہ عروہ بن الزّبیرؓ سے مروی ہے۔" ہود اور صالح علیہما السلام کے علاوہ تمام پیغمبروں نے بیت اللہ شریف کا حج کیا۔ پیغمبر نوحؑ نے بیت اللہ شریف کا دورہ کیا۔ پھر جب سیلاب نے زمین کو ڈبو دیا اور بیت المقدس پانی کے نیچے ڈوب گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ہودؑ کو بھیجا کہ وہ لوگوں کو صحیح راستے کی طرف لائیں۔ حضرت ہودؑ تبلیغ کے کاموں میں اتنے مصروف رہے کہ وہ بیت المقدس کا حج نہ کر سکے یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیت اللہ والی پاک جگہ دکھائی گئی تو انہوں نے بھی وہاں کا حج کیا، اور اس طرح ان کے بعد تمام پیغمبروں نے جو کہ آپؑ کے بعد تشریف لائے"۔ (راوی۔ البیہقی، کتاب السنن)

میں بیہقی کی ان احادیث کی نوعیت جاننا چاہتا ہوں۔ یہ کس درجے کی حدیث ہے، جب کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ بیت اللہ کی تعمیر سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام نے کی۔ مزید یہ کہ اگر غامدی صاحب نے غلام احمد پرویز اور سر سید کے بارے میں کچھ لکھا ہے تو اُس کے بارے میں بھی معلومات فراہم کیجیے۔

پڑھیے۔۔۔